کینیڈا

البرٹا کا نیا طبی نظام: ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی ٹیسٹ کی سہولت

📷 Alberta’s New Healthcare System: Access to MRI, CT Scans and Other Diagnostic Tests Without a Doctor’s Referral(Instant Image)

کینیڈا کے صوبے البرٹا نے اپنے صحت کے نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت شہری اب ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر بھی اپنی ذاتی ادائیگی یا نجی انشورنس کے ذریعے ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے جیسے تشخیصی ٹیسٹ کرا سکیں گے۔


البرٹا کا نیا طبی نظام: ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر ایم آر آئی، سی ٹی اسکین اور دیگر تشخیصی ٹیسٹ کی سہولت

کینیڈا کے صوبے البرٹا نے اپنے صحت کے نظام میں ایک اہم تبدیلی متعارف کرا دی ہے، جس کے تحت شہری اب ڈاکٹر کے ریفرل کے بغیر بھی اپنی ذاتی ادائیگی یا نجی انشورنس کے ذریعے ایم آر آئی، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈ اور ایکسرے جیسے تشخیصی ٹیسٹ کرا سکیں گے۔ نئی پالیسی کا مقصد تشخیصی سہولیات تک رسائی کو آسان بنانا قرار دیا گیا ہے، تاہم اس فیصلے نے طبی ماہرین، اپوزیشن جماعتوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ تنظیموں کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

البرٹا حکومت کے مطابق اس نئی پالیسی کا اطلاق جمعہ سے ہوگا، جس کے تحت بالغ افراد براہ راست نجی تشخیصی مراکز سے رجوع کر سکیں گے، جبکہ 18 سال سے کم عمر افراد کے لیے والدین یا قانونی سرپرست کی اجازت ضروری ہوگی۔ اس اقدام کے ذریعے شہریوں کو طبی تشخیص کے لیے ڈاکٹر کی تحریری سفارش کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

نئے نظام کے تحت مریضوں کو تشخیصی ٹیسٹ کی فیس خود ادا کرنا ہوگی یا وہ نجی انشورنس کے ذریعے ادائیگی کر سکیں گے۔ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد نتائج براہ راست مریض کو فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ان کی طبی معلومات صوبے کے الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈ سسٹم میں بھی شامل کی جائیں گی تاکہ مستقبل میں علاج کے دوران ڈاکٹروں کو مریض کی مکمل طبی تاریخ دستیاب ہو سکے۔

البرٹا حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سہولت سرکاری صحت کے نظام کا متبادل نہیں ہوگی بلکہ اس کی معاونت کرے گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ معمول کے مطابق میموگرافی اور پروسٹیٹ کینسر کی اسکریننگ جیسے عوامی صحت کے پروگرام بدستور سرکاری فنڈنگ کے تحت جاری رہیں گے۔

حکومت نے اس پالیسی کے تحت ایک خصوصی سہولت کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگر کسی مریض میں نجی طور پر کرائے گئے تشخیصی ٹیسٹ کے ذریعے کینسر کی تشخیص ہوتی ہے تو وہ اپنی ادا کی گئی رقم کی واپسی کا اہل ہوگا۔ مریض کو تشخیص کے ایک سال کے اندر رقم واپسی کے لیے درخواست دینا ہوگی، جبکہ ریفنڈ کی رقم کا تعین سرکاری نرخوں کے مطابق کیا جائے گا۔ اگر کسی ٹیسٹ میں کینسر کا شبہ ظاہر ہوتا ہے تو مریض کو فوری طور پر کینسر کیئر البرٹا کے حوالے کیا جائے گا تاکہ بروقت علاج شروع کیا جا سکے۔

یہ تبدیلی ہیلتھ اسٹیچیوٹس امینڈمنٹ ایکٹ 2026 (بل 29) کے تحت ممکن ہوئی، جسے رواں سال مئی میں شاہی منظوری حاصل ہوئی تھی۔ البرٹا حکومت کا موقف ہے کہ نجی ادائیگی کے ذریعے اضافی تشخیصی سہولت متعارف کرانے کے باوجود سرکاری صحت کے نظام میں دستیاب سہولیات یا مریضوں کے حقوق متاثر نہیں ہوں گے۔

صوبائی وزیر برائے پرائمری اینڈ پریونٹیو ہیلتھ سروسز جسٹن رائٹ نے کہا کہ نئی پالیسی کے تحت کام کرنے والے نجی تشخیصی مراکز اس بات کے پابند ہوں گے کہ سرکاری نظام کے ذریعے ڈاکٹر کے ریفر کیے گئے مریضوں کو پہلے کی طرح ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجی ادائیگی والے اضافی ٹیسٹ صرف اسی صورت میں کیے جائیں گے جب اس سے سرکاری صحت کے نظام کے مریضوں کی سہولیات متاثر نہ ہوں۔

حکومت کے مطابق نجی مراکز میں موجود طبی ماہرین پہلے مریض کا جائزہ لیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ مطلوبہ ٹیسٹ واقعی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ مریض کو ٹیسٹ کے ممکنہ فوائد اور خطرات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

تاہم البرٹا کی اپوزیشن جماعت این ڈی پی نے حکومت کے فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ این ڈی پی کے صحت امور کے ناقد شریف حاجی نے کہا کہ اس اقدام سے نہ تو انتظار کے اوقات میں نمایاں کمی آئے گی اور نہ ہی صحت کے نظام کے بنیادی مسائل حل ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ پالیسی ایک دو سطحی صحت کے نظام کو فروغ دے سکتی ہے، جہاں مالی استطاعت رکھنے والے افراد فوری تشخیص حاصل کر سکیں گے، جبکہ عام شہریوں کو بدستور انتظار کرنا پڑے گا۔

دوسری جانب کینیڈا ڈائگناسٹک سینٹرز کے صدر اور چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رابرٹ ڈیوس نے کہا کہ نئی پالیسی کے بعد نجی مراکز کو اپنی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ براہ راست رجوع کرنے والے مریضوں کا درست طبی جائزہ لیا جا سکے۔

ڈاکٹر ڈیوس کے مطابق نئی پالیسی کے نتیجے میں نجی شعبے میں تشخیصی ٹیسٹوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور سالانہ تقریباً 50 سے 60 ہزار اضافی ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں ہر سال ہونے والے تقریباً 70 لاکھ تشخیصی ٹیسٹوں کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی محدود ہے، اس لیے مجموعی صحت کے نظام پر فوری دباؤ پڑنے کا امکان کم ہے۔

البرٹا کا یہ نیا اقدام صحت کی سہولیات تک فوری رسائی، نجی شعبے کے کردار اور سرکاری صحت کے نظام کے مستقبل کے حوالے سے کینیڈا میں جاری بحث کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔ حکومت اسے مریضوں کے لیے اضافی سہولت قرار دے رہی ہے، جبکہ ناقدین اسے صحت کے نظام میں مساوات کے حوالے سے ایک اہم چیلنج سمجھ رہے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories