کامن ویلتھ گیمز میں کینیڈا نے مردوں کے آرٹسٹک جمناسٹکس کے ٹیم ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا
گلاسگو میں کینیڈا کا پہلا طلائی تمغہ، شاندار ٹیم ورک سے انگلینڈ اور آسٹریلیا کو شکست
گلاسگو: کامن ویلتھ گیمز میں کینیڈا نے مردوں کے آرٹسٹک جمناسٹکس کے ٹیم ایونٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔ یہ گلاسگو میں جاری کھیلوں کے دوران کینیڈا کا پہلا طلائی تمغہ ہے، جس نے ملک کے کھیلوں کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ کینیڈین ٹیم نے تمام مقابلوں میں مستقل مزاجی، مہارت اور بہترین ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 241.400 پوائنٹس حاصل کیے اور پہلی پوزیشن پر قبضہ جما لیا۔
تمام مقابلوں میں متوازن اور مضبوط کھیل
کینیڈا نے فائنل میں شامل تمام چھ ایونٹس میں متاثر کن کھیل پیش کیا۔ ٹیم نے رنگز میں 40.600، والٹ میں 41.950، فلور ایکسرسائز میں 39.550، پومل ہارس میں 39.650، پیرالل بارز میں 40.350 اور ہاریزنٹل بار میں 39.300 پوائنٹس حاصل کیے۔
ٹیم کی یہی متوازن کارکردگی اسے دیگر مضبوط حریفوں پر برتری دلانے میں کامیاب رہی۔ کسی ایک کھلاڑی پر انحصار کرنے کے بجائے تمام اراکین نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی نبھائیں، جس کے نتیجے میں کینیڈا گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔
فیلکس ڈولچی نے انفرادی درجہ بندی میں بھی سبقت حاصل کی
کینیڈا کے ممتاز جمناسٹ فیلکس ڈولچی نے انفرادی کوالیفائنگ مرحلے میں بھی اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر 81.650 پوائنٹس حاصل کرکے انفرادی درجہ بندی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
ان کی بہترین کارکردگی نے نہ صرف ٹیم کے مجموعی اسکور میں اہم کردار ادا کیا بلکہ انہیں آئندہ انفرادی مقابلوں کے لیے بھی مضبوط امیدوار بنا دیا ہے۔ کھیلوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈولچی اس وقت کینیڈا کے سب سے نمایاں جمناسٹس میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
انگلینڈ اور آسٹریلیا بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر
سخت مقابلے کے باوجود انگلینڈ کی ٹیم 238.250 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی اور چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ انگلینڈ اور کینیڈا کے درمیان مجموعی طور پر 3.150 پوائنٹس کا فرق رہا۔
آسٹریلیا نے بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 235.650 پوائنٹس حاصل کیے اور کانسی کا تمغہ جیت لیا۔ اگرچہ دونوں ٹیموں نے بہترین کارکردگی دکھائی، لیکن کینیڈا کی مستقل مزاجی اور تمام ایونٹس میں متوازن اسکور نے اسے فیصلہ کن برتری دلا دی۔
گزشتہ کامیابیوں کا تسلسل
یہ کامیابی کینیڈا کے مردوں کے جمناسٹکس پروگرام کے لیے ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔ چار سال قبل برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں کینیڈا نے ٹیم مقابلے میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا، جبکہ جون 2026 میں پہلی مرتبہ پین امریکن چیمپئن شپ میں مردوں کے ٹیم ایونٹ کا ٹائٹل حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔
ان مسلسل کامیابیوں نے ثابت کیا ہے کہ کینیڈا نے مردوں کے جمناسٹکس میں نمایاں ترقی کی ہے اور اب وہ عالمی سطح پر مضبوط ٹیموں میں شمار ہونے لگا ہے۔
کامیاب ٹیم نے نئی تاریخ رقم کر دی
کینیڈا کی گولڈ میڈل یافتہ ٹیم میں جارڈن کیرول، رینی کورنوائے، فیلکس ڈولچی، ولیم ایمارڈ اور ایتھن اکیڈا شامل تھے۔ تمام کھلاڑیوں نے بہترین ٹیم ورک، اعتماد اور اعلیٰ تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کامن ویلتھ گیمز کی تاریخ میں کینیڈا کے لیے ایک یادگار کامیابی حاصل کی۔
کوچنگ اسٹاف نے بھی اس فتح کا سہرا کھلاڑیوں کی مسلسل محنت، نظم و ضبط اور کئی برسوں کی تیاری کو دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم نے ہر مرحلے پر بھرپور توجہ کے ساتھ مقابلہ کیا، جس کا نتیجہ گولڈ میڈل کی صورت میں سامنے آیا۔
مستقبل کے لیے حوصلہ افزا آغاز
کھیلوں کے مبصرین کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف کامن ویلتھ گیمز میں کینیڈا کے لیے ایک بہترین آغاز ہے بلکہ آئندہ عالمی چیمپئن شپ اور اولمپکس کی تیاری کے لیے بھی نہایت حوصلہ افزا ثابت ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ فارم کو برقرار رکھتے ہوئے کینیڈین جمناسٹس مستقبل میں مزید بین الاقوامی اعزازات جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کینیڈا کی اس تاریخی فتح کو ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کامیابی سے نوجوان کھلاڑیوں میں جمناسٹکس کے کھیل کے لیے دلچسپی بڑھے گی، جبکہ کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے اور تربیتی پروگراموں کو بھی مزید فروغ ملے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.




