کینیڈا میں گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ، عالمی کشیدگی سے خام تیل ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر
قومی اوسط قیمت 1.80 کینیڈین ڈالر فی لیٹر سے تجاوز، ماہرین نے آئندہ دو ہفتوں میں مزید 5 سے 10 سینٹ اضافے کی پیش گوئی کر دی
اوٹاوا: کینیڈا میں ایک بار پھر گیس (پٹرول) کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، خام تیل کی بلند ہوتی قیمتیں اور عالمی سپلائی سے متعلق خدشات قرار دیے جا رہے ہیں۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات برقرار رہے تو آنے والے ایک سے دو ہفتوں کے دوران کینیڈا بھر میں گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے، جس سے عام شہریوں، کاروباری اداروں اور ٹرانسپورٹ کے شعبے پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
قومی اوسط قیمت 1.80 ڈالر فی لیٹر سے تجاوز
پٹرول کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی معروف ویب سائٹ GasBuddy کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں گیس کی قومی اوسط قیمت 1.80 کینیڈین ڈالر فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف ایک دن کے دوران اوسط قیمت میں تقریباً 2 سینٹ فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران قیمتیں مجموعی طور پر 8 سینٹ فی لیٹر تک بڑھ چکی ہیں۔ کئی صوبوں میں مختلف شہروں کے پٹرول پمپس پر اس سے بھی زیادہ قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں، جس سے گاڑی چلانے والے افراد کے ماہانہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید مہنگی ہو سکتی ہے گیس
ایندھن کی قیمتوں کے معروف تجزیہ کار پیٹرک ڈی ہان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا مکمل اثر ابھی کینیڈا کے پٹرول پمپس تک نہیں پہنچا ہے۔
ان کے مطابق آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران گیس کی قیمتوں میں مزید 5 سے 10 سینٹ فی لیٹر تک اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی سطح پر کشیدگی برقرار رہی اور خام تیل کی سپلائی متاثر ہوتی رہی تو ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو مزید مہنگا پٹرول خریدنا پڑ سکتا ہے۔
خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کیوں؟
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گزشتہ ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جس کا براہ راست اثر دنیا بھر میں ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے ستمبر کے سودوں کی قیمت 92 امریکی ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو ایک ہی دن میں تقریباً 6 فیصد اضافے کی نشاندہی کرتی ہے۔
اسی طرح بین الاقوامی سطح پر سمندری تجارت میں استعمال ہونے والے خام تیل کے بینچ مارک کی قیمت بھی 100 امریکی ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ رہی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈی میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔
عالمی کشیدگی نے سپلائی پر خدشات بڑھا دیے
توانائی کے ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی ہے۔
یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریز کو نشانہ بنانے کے واقعات کے بعد عالمی سطح پر تیل کی پیداوار اور سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، نیز ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کی جانب سے بحیرۂ احمر میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹوں نے عالمی تجارتی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ ان عوامل کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر سپلائی مزید متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔
ڈیزل بھی ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف گیس ہی نہیں بلکہ خام تیل سے تیار ہونے والا ڈیزل بھی آئندہ ہفتوں میں مزید مہنگا ہو سکتا ہے۔
پیٹرک ڈی ہان کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر کاروباری شعبے کے لیے تشویش کا باعث ہوگا، کیونکہ ٹرکوں، زرعی مشینری، ریلوے انجنوں اور بھاری صنعتی آلات میں بڑی مقدار میں ڈیزل استعمال ہوتا ہے۔
ان کے مطابق اگر ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوں گے اور اشیا کی نقل و حمل کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
عام شہری اور کاروبار دونوں متاثر
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس سے پوری معیشت متاثر ہوتی ہے۔
جب ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں تو خوراک، روزمرہ استعمال کی اشیا، تعمیراتی سامان اور دیگر ضروری مصنوعات کی ترسیل بھی مہنگی ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں صارفین کو زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑتی ہیں۔
خاص طور پر کسان، ٹرانسپورٹ کمپنیاں، لاجسٹکس کے شعبے سے وابستہ ادارے اور وہ صنعتیں جو بھاری مشینری استعمال کرتی ہیں، ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔
گھریلو بجٹ پر بھی دباؤ
ماہرین کے مطابق گیس کی مسلسل بڑھتی قیمتیں کینیڈین خاندانوں کے گھریلو بجٹ پر بھی اثر انداز ہو رہی ہیں۔ روزانہ ملازمت، تعلیم یا کاروبار کے لیے گاڑی استعمال کرنے والے افراد کو ہر ہفتے ایندھن پر پہلے سے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے، جس کے باعث دیگر ضروری اخراجات کے لیے دستیاب بجٹ کم ہو رہا ہے۔
مستقبل کی صورتحال
توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں کینیڈا میں گیس اور ڈیزل کی قیمتوں کا انحصار عالمی سیاسی حالات، خام تیل کی سپلائی، مشرق وسطیٰ اور یورپ کی صورتحال، اور بڑی معیشتوں کے درمیان تعلقات پر ہوگا۔
اگر عالمی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو کینیڈا سمیت کئی ممالک میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ تاہم اگر عالمی حالات میں بہتری آتی ہے اور سپلائی معمول پر رہتی ہے تو قیمتوں میں استحکام یا بتدریج کمی بھی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ فی الحال صارفین اور کاروباری اداروں کو مہنگے ایندھن کے ساتھ اپنے اخراجات اور مالی منصوبہ بندی کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.




