تفریح

دلجیت دوسانجھ کی سی جے پی احتجاج پر حکومت سے طلبہ کے مطالبات سننے کی اپیل

📷 Diljit Dosanjh Urges Government to Hear Students' Demands(Image credit to Social Media)

“مجھے پھر اینٹی نیشنلسٹ کہا جائے گا”؛ دلجیت دوسانجھ کا جذباتی بیان

دلجیت دوسانجھ نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا

نئی دہلی: پنجابی سپر اسٹار اور گلوکار دلجیت دوسانجھ نے دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی قیادت میں جاری طلبہ کے احتجاج اور “چلو پارلیمنٹ” مارچ کے دوران پیش آنے والے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ طلبہ کے مطالبات کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے ساتھ انصاف کرے۔

سی جے پی گزشتہ 20 جولائی سے نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ پیر کے روز پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں متعدد طلبہ کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ منگل کو بھی جنتر منتر پر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔

اسی دوران دلجیت دوسانجھ نے اپنے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے طلبہ کے ساتھ پیش آنے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا:

“اج جو ہویا بہت ماڑا ہویا… اسٹوڈنٹس نال ایڈن ٹریٹ نہیں ہونا چاہیدا۔”
(آج جو ہوا بہت ہی برا ہوا، طلبہ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ نہیں ہونا چاہیے۔)

انہوں نے حکومت اور متعلقہ حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا:

“میں اتھارٹیز نوں ریکویسٹ کردا ہاں کے اسٹوڈنٹس دیاں ڈیمانڈز نوں سن لیا جاوے… لوکاں دی آواز رب دی آواز ہوندی آ۔”
(میں حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ طلبہ کے مطالبات کو سن لیا جائے۔ لوگوں کی آواز خدا کی آواز ہوتی ہے۔)

دلجیت نے اپنی پوسٹ کے ساتھ دعا کا ایموجی بھی شامل کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ مسئلے کا پرامن اور منصفانہ حل نکالا جائے گا۔

“مجھے پھر اینٹی نیشنلسٹ کہا جائے گا”

دلجیت دوسانجھ نے اپنی پوسٹ میں اس تنقید کا بھی ذکر کیا جس کا انہیں ماضی میں مختلف سماجی اور عوامی مسائل پر اظہارِ خیال کرنے کی وجہ سے سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے لکھا:

“میرے تے پہلے ہی اینٹی نیشنلسٹ دا ٹیگ بہت وار لگ چکیا… ہن وی مینوں اینٹی نیشنلسٹ کہا جائے گا۔”
(میرے اوپر پہلے ہی کئی بار اینٹی نیشنلسٹ ہونے کا ٹیگ لگ چکا ہے، اب بھی مجھے اینٹی نیشنلسٹ کہا جائے گا۔)

انہوں نے کسان تحریک کے دوران ہونے والی تنقید اور بعد میں پیش آنے والے قانونی مسائل کا اشارہ دیتے ہوئے مزید لکھا:

“کسان موومنٹ توں بعد جو وی ہویا… اوہ میں ڈسکس نہیں کر سکدا… باقی رب سب دیکھ رہا، بابا بھلی کرے۔”

دلجیت کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور مختلف حلقوں میں اس پر بحث جاری ہے۔

احتجاج کے بعد سامنے آیا بیان

دلجیت دوسانجھ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کارروائی، لاٹھی چارج اور طلبہ کے زخمی ہونے کی خبروں نے ملک بھر میں توجہ حاصل کی ہے۔ احتجاج میں شامل طلبہ اور مختلف سماجی تنظیمیں حکومت سے نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

احتجاج کے دوران متعدد سیاسی جماعتوں کے رہنما، سماجی کارکن اور مختلف تنظیموں کے نمائندے بھی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کر چکے ہیں۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ ان کی تحریک مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں جاری ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالے۔

سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل

دلجیت دوسانجھ کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ نوجوانوں اور طلبہ کی ایک بڑی تعداد نے ان کے مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ معروف شخصیات کا عوامی مسائل پر آواز اٹھانا مثبت اقدام ہے۔

دوسری جانب بعض صارفین نے ان کے بیان پر تنقید بھی کی اور انہیں ایک مرتبہ پھر سیاسی تنازعات میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ تاہم دلجیت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں بلکہ صرف طلبہ کے مطالبات سنے جانے اور ان کے ساتھ بہتر سلوک کی اپیل کی ہے۔

سماجی مسائل پر پہلے بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں

دلجیت دوسانجھ اس سے قبل بھی مختلف سماجی اور عوامی مسائل پر اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ کسان تحریک کے دوران بھی انہوں نے کسانوں کی حمایت میں آواز بلند کی تھی، جس کے بعد انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

ان دنوں ان کی فلم “ستلج” بھی مختلف وجوہات کی بنا پر خبروں میں ہے، تاہم تازہ بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔

دلجیت کے اس بیان نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عوامی شخصیات کو سماجی اور تعلیمی مسائل پر اظہارِ خیال کرنے کی آزادی ہونی چاہیے، یا ایسے بیانات کو سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ تاہم دلجیت نے اپنے پیغام میں واضح طور پر صرف طلبہ کے مطالبات سنے جانے اور ان کے ساتھ بہتر برتاؤ کی اپیل کی ہے، جبکہ اپنے بارے میں یہ بھی کہا کہ “ہن وی مینوں اینٹی نیشنلسٹ کہا جائے گا۔”

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories