پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق یہ اقدام سرحدی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور کینیڈا میں داخل ہونے والے مسافروں کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
جمہوریہ کانگو کا گزشتہ 21 دن میں سفر کرنے والے غیر ملکی شہری کینیڈا نہیں آ سکیں گے
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ایبولا وائرس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) سے آنے والے غیر ملکی شہریوں کے ملک میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی پابندی کے تحت ایسے تمام غیر ملکی افراد جنہوں نے گزشتہ 21 دن کے دوران جمہوریہ کانگو کا سفر کیا ہو، انہیں کینیڈا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پبلک ہیلتھ ایجنسی آف کینیڈا (PHAC) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کو ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔ نئی پابندیاں پیر کی شب 11 بج کر 59 منٹ سے نافذ العمل ہوں گی۔
ایئرلائنز کو بھی سخت ہدایات جاری
حکومت نے تجارتی اور نجی فضائی کمپنیوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ایسے غیر ملکی مسافروں کو کینیڈا جانے والی پروازوں میں سوار نہ ہونے دیں جنہوں نے گزشتہ 21 دن کے دوران جمہوریہ کانگو کا سفر کیا ہو۔
پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق یہ اقدام سرحدی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے اور کینیڈا میں داخل ہونے والے مسافروں کے ذریعے وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت نے پالیسی میں تبدیلی کیوں کی؟
اس سے قبل مئی میں کینیڈین حکومت نے کانگو، جنوبی سوڈان اور یوگنڈا سے آنے والے مسافروں کے لیے 21 روزہ لازمی قرنطینہ کی شرط عائد کی تھی، تاہم اب حکومت نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے غیر ملکی شہریوں کے داخلے پر ہی عارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
پبلک ہیلتھ ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ اگرچہ کینیڈا کے لیے ایبولا کا مجموعی خطرہ اب بھی کم ہے، تاہم کانگو میں بیماری کی تیزی سے بگڑتی صورتحال تشویش کا باعث ہے۔
ایبولا کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے
پبلک ہیلتھ ایجنسی کے مطابق موجودہ ایبولا وبا کانگو کی تاریخ کی تیسری بڑی وبا ہے، لیکن اس کی رفتار گزشتہ تمام وباؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایبولا کے 2,181 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 864 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو جولائی کے اختتام تک متاثرہ افراد کی تعداد 3,200 سے تجاوز کر سکتی ہے جبکہ اموات کی تعداد 1,330 تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اکثر مریض حکام کی نگرانی میں نہیں
پبلک ہیلتھ ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کانگو میں ایبولا کے 80 فیصد سے زیادہ مریض ایسے ہیں جو پہلے سے کسی سرکاری نگرانی یا رابطہ فہرست میں شامل نہیں تھے۔
اسی طرح تقریباً 60 فیصد اموات ایسے افراد کی ہوئیں جنہیں کسی اسپتال یا طبی مرکز میں علاج کی سہولت بھی حاصل نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے وائرس پر قابو پانا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
کینیڈین شہریوں پر پابندی نہیں ہوگی
حکومت نے واضح کیا ہے کہ کینیڈین شہری، مستقل رہائشی (Permanent Residents) اور انڈین ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ افراد اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔
البتہ اگر ان افراد نے گزشتہ 21 دن میں جمہوریہ کانگو، جنوبی سوڈان یا یوگنڈا کا سفر کیا ہوگا تو انہیں کینیڈا پہنچنے پر طبی معائنہ کرانا ہوگا اور 21 دن تک لازمی قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔
جنوبی سوڈان اور یوگنڈا پر پابندی نہیں
حکومت کی نئی پابندی صرف جمہوریہ کانگو سے آنے والے غیر ملکی شہریوں پر لاگو ہوگی۔
اگرچہ جنوبی سوڈان اور یوگنڈا بھی ایبولا سے متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، تاہم ان ممالک کے حوالے سے فی الحال سفری پابندی عائد نہیں کی گئی۔ ان ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے سابقہ قرنطینہ کے ضوابط برقرار رہیں گے۔
ہر ہفتے سینکڑوں مسافر کینیڈا پہنچتے ہیں
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جمہوریہ کانگو، جنوبی سوڈان اور یوگنڈا سے اوسطاً 350 افراد ہر ہفتے کینیڈا پہنچتے ہیں۔
ان میں سے زیادہ تر مسافر ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اترتے ہیں۔ تقریباً 60 فیصد مسافر کینیڈین شہری یا مستقل رہائشی ہوتے ہیں جبکہ باقی 40 فیصد غیر ملکی شہری ہوتے ہیں۔
دیگر ممالک بھی پابندیاں عائد کر چکے ہیں
کینیڈا سے قبل امریکہ بھی 22 مئی کو جمہوریہ کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان سے آنے والے غیر ملکی شہریوں پر سفری پابندی عائد کر چکا ہے۔
اسی طرح میکسیکو نے بھی 17 مئی کو ایبولا سے متاثرہ علاقوں کے لیے سفری پابندیاں نافذ کر دی تھیں۔
29 اگست تک نافذ رہیں گی پابندیاں
کینیڈین حکومت کے مطابق نئی سفری پابندیاں اور مئی میں نافذ کیے گئے حفاظتی اقدامات فی الحال 29 اگست تک برقرار رہیں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس دوران عالمی صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ان پابندیوں میں توسیع یا مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور ایبولا سے متعلق تمام صحت عامہ کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

