کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے وزیرِ سیاحت، ثقافت اور گیمنگ اسٹین چو نے سرکاری خرچ پر ہوٹل میں قیام کے اخراجات سے متعلق تنازع کے بعد اپنی کابینہ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
سرکاری اخراجات پر اٹھنے والے سوالات کے بعد کابینہ چھوڑنے کا اعلان
ٹورنٹو: کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو کے وزیرِ سیاحت، ثقافت اور گیمنگ اسٹین چو نے سرکاری خرچ پر ہوٹل میں قیام کے اخراجات سے متعلق تنازع کے بعد اپنی کابینہ کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پریمیئر ڈگ فورڈ نے جمعہ کے روز ان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول کرتے ہوئے کہا کہ وزیر نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔
اگرچہ اسٹین چو نے وزارت چھوڑ دی ہے، تاہم وہ اپنے حلقے ولوڈیل سے منتخب رکنِ صوبائی اسمبلی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں بدستور انجام دیتے رہیں گے۔
16 ہزار ڈالر سے زائد کے ہوٹل اخراجات تنازع کا سبب بنے
سرکاری دستاویزات کے مطابق اسٹین چو نے سال 2023 سے اب تک ٹورنٹو میں ہوٹل میں قیام کے لیے 16 ہزار کینیڈین ڈالر سے زائد کے اخراجات سرکاری خزانے سے وصول کیے تھے۔
یہ معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں اور عوامی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے کہ جب ان کا حلقہ اسمبلی کی عمارت کے قریب واقع ہے تو سرکاری خرچ پر بار بار ہوٹل میں قیام کیوں کیا گیا۔
اگرچہ ریکارڈ کے مطابق دیگر بعض وزراء نے اس سے زیادہ اخراجات بھی وصول کیے، لیکن اسٹین چو کا حلقہ اسمبلی کے نسبتاً قریب ہونے کے باعث ان کے اخراجات زیادہ تنقید کی زد میں آ گئے۔
اسٹین چو نے رقم واپس کرنے کا اعلان کیا
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں اسٹین چو نے کہا کہ انہوں نے ہوٹل کے تمام اخراجات کی رقم حکومت کو واپس ادا کر دی ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران انہوں نے صرف ان راتوں کے قیام کے اخراجات وصول کیے جب صوبائی اسمبلی کے اجلاس دیر رات تک جاری رہتے تھے اور ان کے خیال میں یہ تمام اخراجات اسمبلی کے قواعد کے مطابق تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے تمام دعووں کا دوبارہ جائزہ لیا اور انہیں یقین تھا کہ وہ ضابطوں کے مطابق تھے، لیکن اب ماضی پر نظر ڈالنے سے انہیں احساس ہوا کہ اس معاملے میں بہتر فیصلہ کیا جا سکتا تھا۔
“میں اپنی غلطی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتا ہوں”
اپنے بیان میں اسٹین چو نے کہا کہ اگرچہ ان کا خیال تھا کہ انہوں نے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی، لیکن عوامی اعتماد برقرار رکھنا ہر عوامی نمائندے کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی غلطی کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے حکومت کی معاشی ترقی، عوامی تحفظ اور صوبے کی تعمیر و ترقی سے متعلق پالیسیوں پر کوئی منفی اثر پڑے۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے وزارت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
پریمیئر ڈگ فورڈ نے استعفیٰ قبول کر لیا
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے جاری بیان میں کہا کہ اسٹین چو نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا ہے اور انہوں نے ان کا استعفیٰ فوری طور پر قبول کر لیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ صوبائی رکن اسمبلی ڈگ ڈاؤنی کو عبوری طور پر وزارتِ سیاحت، ثقافت اور گیمنگ کی اضافی ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں تاکہ حکومتی امور بغیر کسی تعطل کے جاری رہ سکیں۔
حکومت نے اخراجات کو ناقابل قبول قرار دے دیا
بعد ازاں ایک الگ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پریمیئر ڈگ فورڈ نے کہا کہ اس نوعیت کے سرکاری اخراجات ناقابل قبول ہیں اور ان کی حکومت عوامی وسائل کے استعمال میں مکمل احتیاط اور ذمہ داری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے اپنی پوری کابینہ اور حکومتی ارکان کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کے اخراجات ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
ان کے مطابق عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہے اور حکومت اس کے استعمال میں مکمل شفافیت برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
دیگر وزراء کے اخراجات بھی زیرِ بحث
سرکاری اخراجات کے ریکارڈ سے معلوم ہوا ہے کہ 2023 سے اونٹاریو کابینہ کے متعدد وزراء اور ٹورنٹو یا اس کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھنے والے حکومتی ارکان خصوصی قواعد کے تحت ہوٹل کے اخراجات وصول کرتے رہے ہیں۔
اگرچہ ان اخراجات کی اجازت بعض مخصوص حالات میں موجود تھی، لیکن اسٹین چو کے معاملے نے پورے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اب حکومت ان قواعد کا ازسرِ نو جائزہ لینے پر بھی غور کر رہی ہے۔
شفافیت پر زور
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹین چو کا استعفیٰ اس بات کی علامت ہے کہ عوامی اخراجات کے معاملات میں اب شفافیت اور احتساب پہلے سے زیادہ اہم ہو چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے رقم واپس لینے، وزیر کے استعفے اور قواعد کا جائزہ لینے کے اقدامات عوامی اعتماد بحال کرنے کی کوشش ہیں، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر مزید تحقیقات کا مطالبہ کر سکتی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

