کینیڈا

ٹرمپ کا کینیڈا پر نیا الزام، جنگلاتی آگ کے دھوئیں پر محصولات بڑھانے کی دھمکی

📷 Tariff Threat Over Wildfire Smoke(Instant image)

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو غیر ضروری طور پر “گندی، آلودہ اور صحت کے لیے خطرناک ہوا” کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

جنگلاتی دھواں امریکہ پہنچنے پر ٹرمپ کا سخت ردعمل

واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا سے اٹھنے والے جنگلاتی آگ کے دھوئیں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر کینیڈا کو “ذمہ دار” ٹھہرائیں گے اور اس سے ہونے والے مالی نقصان کو کینیڈا پر عائد امریکی محصولات (ٹیرف) میں شامل کیا جائے گا۔

ٹرمپ نے جمعہ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں الزام لگایا کہ کینیڈا اپنے جنگلات اور جھاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں زہریلا اور آلودہ دھواں امریکہ میں داخل ہو رہا ہے۔

“غیر صحت بخش ہوا امریکہ پر مسلط کی جا رہی ہے”

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ کو غیر ضروری طور پر “گندی، آلودہ اور صحت کے لیے خطرناک ہوا” کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال امریکی شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور اس کی ذمہ داری کینیڈا پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا کی جانب سے جنگلات کے مناسب انتظام میں ناکامی “دانستہ غفلت” (Willful Negligence) کے مترادف ہے اور یہ مسئلہ اب ہر سال سامنے آنے لگا ہے۔

کینیڈا پر اضافی محصولات عائد کرنے کی دھمکی

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جنگلاتی دھوئیں کے باعث امریکہ کو ہر سال اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، اس لیے اس نقصان کا ازالہ کینیڈا پر عائد ٹیرف میں اضافہ کرکے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی کینیڈا پر مختلف تجارتی محصولات نافذ کیے ہوئے ہے اور اب فضائی آلودگی سے ہونے والے نقصان کو بھی ان محصولات کا حصہ بنایا جائے گا۔

مارک کارنی سے رابطے کا اعلان

امریکی صدر نے بتایا کہ وہ جلد ہی کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی سے رابطہ کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کینیڈا اس مسئلے کے حل کے لیے کیا اقدامات کرنے جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اس معاملے پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے کیونکہ جنگلاتی دھواں سرحد پار کر کے امریکی ریاستوں کو متاثر کر رہا ہے۔

امریکی سیاست دانوں کی بھی تنقید

حالیہ دنوں میں امریکی کانگریس کے متعدد ارکان بھی کینیڈا کے جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے اقدامات پر تنقید کر چکے ہیں۔

کچھ امریکی قانون سازوں نے کہا کہ “خودمختاری کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے” اور کینیڈا کو اپنی سرزمین پر لگنے والی آگ پر زیادہ مؤثر طریقے سے قابو پانا چاہیے تاکہ اس کے اثرات ہمسایہ ملک تک نہ پہنچیں۔

اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ کا دوٹوک جواب

دوسری جانب اونٹاریو کے وزیرِ اعلیٰ ڈگ فورڈ نے امریکی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکی عوام کو اچھا ہمسایہ سمجھتے ہیں، لیکن اگر کچھ سیاست دان تنقید کر رہے ہیں تو انہیں شکایت کرنے کے بجائے امداد بھیجنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے ماضی میں کئی مواقع پر امریکہ میں جنگلاتی آگ اور قدرتی آفات کے دوران امدادی عملے اور وسائل فراہم کیے تھے، اس لیے مشکل وقت میں دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے، نہ کہ ایک دوسرے پر الزامات لگانے چاہییں۔

دونوں ممالک کے درمیان پرانا تعاون موجود

واضح رہے کہ کینیڈا اور امریکہ کے درمیان 1982 سے کینیڈا-امریکہ باہمی جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے معاہدے کے تحت تعاون جاری ہے۔

اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کو فائر فائٹنگ عملہ، آلات اور دیگر وسائل فراہم کرتے ہیں تاکہ جنگلاتی آگ پر مؤثر انداز میں قابو پایا جا سکے۔

جنگلاتی آگ کا سلسلہ بدستور جاری

رواں موسمِ گرما کے دوران کینیڈا کے مختلف صوبوں میں سینکڑوں جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کے باعث لاکھوں ہیکٹر جنگلات جل چکے ہیں جبکہ دھواں کینیڈا کے علاوہ امریکہ کی کئی شمالی اور مشرقی ریاستوں تک پہنچ گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، شدید گرمی اور خشک موسم جنگلاتی آگ کی شدت میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں، جبکہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories