یہ اعلان وفاقی وزیر زراعت و زرعی خوراک ہیتھ میکڈونلڈ اور سسکیچیوان کے وزیر زراعت ڈیوڈ میریٹ نے مشترکہ طور پر کیا۔
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ سسکیچیوان نے انڈین ہیڈ (Indian Head) اور اسکاٹ (Scott) زرعی تحقیقی فارمز میں زرعی سرگرمیوں کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ تعاون کا اعلان کیا ہے۔ دونوں حکومتیں ان تحقیقی مراکز کی مجوزہ فروخت کے دوران ایسے عبوری انتظامات پر غور کریں گی جن کے ذریعے یہ فارم زرعی شعبے کے لیے فعال اور کارآمد رہ سکیں۔
یہ اعلان وفاقی وزیر زراعت و زرعی خوراک ہیتھ میکڈونلڈ اور سسکیچیوان کے وزیر زراعت ڈیوڈ میریٹ نے مشترکہ طور پر کیا۔
تحقیقی مراکز کی فروخت کے باوجود زرعی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش
ایگریکلچر اینڈ ایگرو فوڈ کینیڈا (AAFC) اس وقت اپنی سائنسی سرگرمیوں اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق ازسرِ نو منظم کر رہا ہے تاکہ تحقیق کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکے اور ایسی سائنسی ایجادات کو فروغ دیا جا سکے جو زرعی شعبے میں تیزی سے عملی نتائج دے سکیں۔
اسی تناظر میں انڈین ہیڈ اور اسکاٹ ریسرچ فارمز کو وفاقی پروگراموں کی ضروریات سے زائد قرار دیتے ہوئے ان کی فروخت کا عمل شروع کیا گیا ہے، تاہم دونوں حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ فروخت کے دوران بھی ان مراکز میں زرعی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونی چاہئیں۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط
وفاقی اور صوبائی حکومت نے اس مقصد کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت (Memorandum of Understanding) پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت دونوں فریق ایسے عبوری انتظامات تلاش کریں گے جن سے ان ریسرچ فارمز میں زرعی تحقیق، تجربات اور دیگر سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف ان قیمتی زرعی اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گا بلکہ اس عرصے کے دوران کسانوں اور زرعی شعبے کو بھی ان مراکز سے فائدہ پہنچتا رہے گا۔
وفاقی حکومت تحقیق پر سرمایہ کاری جاری رکھے گی
وفاقی وزیر زراعت ہیتھ میکڈونلڈ نے کہا کہ اگرچہ یہ فارم اب وفاقی پروگراموں کی بنیادی ضرورت کا حصہ نہیں رہے، لیکن حکومت چاہتی ہے کہ ان زمینوں کا استعمال آئندہ بھی زرعی شعبے کی بہتری کے لیے جاری رہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی تحقیق میں اپنی سرمایہ کاری جاری رکھے گی اور صنعت، صوبائی حکومتوں، جامعات اور بین الاقوامی تحقیقی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گی تاکہ جدید زرعی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے ذریعے کسانوں کی مدد کی جا سکے۔
ان کے مطابق ملک بھر میں قائم تحقیقی مراکز اور قومی و علاقائی منصوبوں کے ذریعے زرعی اور غذائی شعبے کی ترقی کو مسلسل فروغ دیا جائے گا۔
سسکیچیوان حکومت کا خیر مقدم
سسکیچیوان کے وزیر زراعت ڈیوڈ میریٹ نے کہا کہ انڈین ہیڈ اور اسکاٹ ریسرچ فارمز نے کئی برسوں تک زرعی تحقیق میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ مراکز سسکیچیوان کے تحقیقی نیٹ ورک کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان تحقیقی مراکز کی بدولت صوبے کے کسانوں کو جدید تحقیق، بہتر فصلوں اور زرعی ٹیکنالوجی سے فائدہ پہنچا، جس سے سسکیچیوان کی زرعی معیشت کو عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھنے میں مدد ملی۔
ان کا کہنا تھا کہ نئی مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں حکومتیں اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ ان مراکز میں زرعی سرگرمیاں مستقبل کے مستقل انتظامات تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہیں۔
کسانوں کو ہوگا براہِ راست فائدہ
حکام کے مطابق یہ اقدام سسکیچیوان کے کسانوں کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ ان تحقیقی فارمز پر ہونے والی تحقیق نئی اقسام کی فصلوں، زرعی پیداوار میں اضافے، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے اور جدید زرعی طریقۂ کار کی تیاری میں مددگار ثابت ہوتی رہی ہے۔
زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مراکز میں سرگرمیاں جاری رہتی ہیں تو کسانوں کو جدید سائنسی تحقیق سے مسلسل فائدہ ملتا رہے گا اور زرعی شعبے کی ترقی میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا۔
زرعی شعبے کے لیے مشترکہ عزم
وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت سسکیچیوان کی معیشت اور مقامی آبادی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے ان اہم تحقیقی مراکز کو فعال رکھنا دونوں حکومتوں کی مشترکہ ترجیح ہے۔
حکام کے مطابق انڈین ہیڈ اور اسکاٹ ریسرچ فارمز میں زرعی سرگرمیوں کے تسلسل سے نہ صرف تحقیق کا عمل جاری رہے گا بلکہ مستقبل میں زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور کسانوں کی معاشی بہتری کے لیے بھی مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

