کینیڈا

قرض کی واپسی تک گورڈی ہوؤ پل کی ٹول آمدنی امریکہ سے شیئر نہیں ہوگی

📷 US Won’t Get Gordie Howe Bridge Tolls Until Debt Is Repaid(Instant Image)

کینیڈا کا مؤقف واضح: قرض کی واپسی تک گورڈی ہوؤ پل کی ٹول آمدنی امریکہ سے شیئر نہیں ہوگی

اوٹاوا: کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے واضح کیا ہے کہ گورڈی ہوؤ انٹرنیشنل برج کی ٹول آمدنی امریکہ کے ساتھ اس وقت تک شیئر نہیں کی جائے گی جب تک کینیڈا اس منصوبے پر کی گئی اپنی ابتدائی سرمایہ کاری مکمل طور پر واپس حاصل نہ کر لے۔ انہوں نے کہا کہ پل کی تعمیر پر آنے والی لاگت کینیڈا نے برداشت کی ہے، اس لیے سب سے پہلے وہ اپنے اخراجات کی وصولی کا حق رکھتا ہے۔

گورڈی ہوؤ انٹرنیشنل برج ونڈسر، اونٹاریو کو امریکی شہر ڈیٹرائٹ، مشی گن سے ملاتا ہے اور اسے شمالی امریکہ کے اہم ترین تجارتی راستوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ پل کو 27 جولائی سے باضابطہ طور پر ٹریفک کے لیے کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

2012 کا معاہدہ آج بھی برقرار

اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ کینیڈا اور امریکی ریاست مشی گن کے درمیان 2012 میں ہونے والا اصل معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔ اس معاہدے کے مطابق پل سے حاصل ہونے والی تمام ٹول آمدنی اس وقت تک کینیڈا کو ملے گی جب تک تعمیراتی منصوبے پر خرچ ہونے والی رقم واپس وصول نہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس بنیادی اصول میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور کینیڈا اپنی سرمایہ کاری کی مکمل واپسی کے بعد ہی امریکہ کے ساتھ آمدنی تقسیم کرے گا۔

پہلے قرض، پھر ریونیو شیئرنگ

وزیرِ اعظم کے مطابق تعمیراتی اخراجات کی واپسی کے بعد پہلے پندرہ برس تک پل کی خالص آمدنی، آپریشنل اخراجات نکالنے کے بعد، دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔

کارنی نے بتایا کہ ابتدائی برسوں میں پل کی دیکھ بھال، برف ہٹانے، مرمت اور دیگر انتظامی اخراجات کی وجہ سے خالص منافع زیادہ نہیں ہوگا، اس لیے امریکہ کو ملنے والا حصہ بھی محدود رہے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ کو ملنے والی رقم بھی معاشی ترقی کے منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

ٹرمپ کے دعوے کے بعد وضاحت

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اس پل کے حوالے سے امریکہ کے لیے “زیادہ بہتر معاہدہ” حاصل کیا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ پہلے امریکہ کو پل سے کوئی آمدنی نہیں مل رہی تھی، لیکن اب اسے ٹول آمدنی میں نمایاں حصہ حاصل ہوگا۔

اس بیان کے بعد کینیڈا میں اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ مارک کارنی نے امریکی دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے رعایتیں دی ہیں۔

معاہدے کی مکمل تفصیلات اب بھی خفیہ

اب تک کینیڈا اور امریکہ کے درمیان ہونے والے تازہ انتظامات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں۔

رائٹرز سے گفتگو کرنے والے دو ذرائع کے مطابق مجوزہ انتظام کے تحت امریکہ کو مستقبل میں پل کی خالص ٹول آمدنی کا تقریباً 50 فیصد حصہ مل سکتا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ کو ٹول فیس میں 10 فیصد سے زیادہ اضافے پر اعتراض یا ویٹو کا حق حاصل ہوگا۔

تاہم وزیرِ اعظم کارنی نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی اور صرف اتنا کہا کہ بنیادی معاہدہ اپنی اصل شکل میں برقرار ہے۔

ماہرین نے معاہدے کو کینیڈا کے حق میں قرار دیا

کارلٹن یونیورسٹی کے بین الاقوامی امور کے پروفیسر فین ہیمپسن کے مطابق اگر مالیاتی حساب لگایا جائے تو کینیڈا کے لیے یہ معاہدہ فائدہ مند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک امریکہ کو آمدنی میں حصہ ملنا شروع ہوگا، کینیڈا اپنی زیادہ تر سرمایہ کاری پہلے ہی واپس حاصل کر چکا ہوگا، اس لیے امریکہ کو ملنے والا مالی فائدہ محدود ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیاسی اعتبار سے بھی کینیڈا نے بہتر حکمتِ عملی اختیار کی کیونکہ اگر امریکی صدر یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی بڑی کامیابی ملی ہے تو اس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں غیر ضروری کشیدگی پیدا نہیں ہوگی۔

اپوزیشن کا مکمل معاہدہ منظرعام پر لانے کا مطالبہ

کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ شوالائے مجمدار نے حکومت پر زور دیا ہے کہ معاہدے کی تمام تفصیلات عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کینیڈین عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ امریکہ کے ساتھ کن شرائط پر اتفاق ہوا، اس کی اصل قیمت کیا ہے اور قومی مفادات کے بدلے کیا رعایتیں دی گئی ہیں۔

تجارتی اہمیت کا حامل منصوبہ

گورڈی ہوؤ انٹرنیشنل برج کو کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارت کے لیے ایک اہم منصوبہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پل دونوں ممالک کے درمیان سامان کی ترسیل کو مزید تیز اور مؤثر بنانے میں مدد دے گا اور سرحدی تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں، جب دونوں ممالک نئے تجارتی معاہدے پر بھی مذاکرات کر رہے ہیں، اس پل سے متعلق مالی اور انتظامی معاملات دونوں حکومتوں کے تعلقات میں اہم کردار ادا کریں گے۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories