سیاست

ٹرمپ کا انتخابی نظام پر دوبارہ سوال، وسط مدتی انتخابات سے قبل سخت ووٹنگ قوانین کی وکالت

📷 Trump Questions Election System Again Ahead of Midterms(Instant Image)

ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں امریکی انتخابات پر پھر سوالات اٹھا دیے، مڈٹرم انتخابات سے قبل سخت ووٹنگ قوانین کا مطالبہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شب قوم سے اپنے خصوصی خطاب میں ایک بار پھر امریکی انتخابی نظام کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے 2020 کے صدارتی انتخاب میں اپنی شکست کو متنازع قرار دیا اور آئندہ مڈٹرم انتخابات سے قبل ووٹنگ کے قوانین مزید سخت کرنے کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکہ کو آزاد اور منصفانہ انتخابات کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے انتخابی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی عظمت اس وقت تک برقرار نہیں رہ سکتی جب تک اس کے انتخابات مکمل طور پر شفاف اور قابلِ اعتماد نہ ہوں۔

صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر 2020 کے صدارتی انتخابات سے متعلق کئی ایسے الزامات دہرائے جنہیں ماضی میں متعدد تحقیقات، عدالتی فیصلوں اور انتخابی جائزوں کے ذریعے بے بنیاد قرار دیا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بعض خفیہ دستاویزات جاری کر رہے ہیں جو 2018 اور 2020 کے انتخابات کے حوالے سے نئی معلومات فراہم کریں گی۔

2020 کی شکست کا معاملہ دوبارہ زیر بحث

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اپنی واحد صدارتی انتخابی شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی عمل میں کئی خامیاں موجود تھیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر نے انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے کوئی ایسا واضح ثبوت پیش نہیں کیا جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ووٹوں کی گنتی میں رد و بدل کیا گیا تھا یا انتخابی نتائج تبدیل کیے گئے تھے۔

امریکی انٹیلی جنس اداروں اور سابق حکام کی متعدد رپورٹس پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ 2020 کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی یا ووٹوں میں رد و بدل کے شواہد نہیں ملے تھے۔ اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل انتخابی عمل پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

سخت ووٹر شناختی قانون کی حمایت

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کو کانگریس میں زیر غور سخت ووٹر شناختی قانون کے حق میں استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو محفوظ بنانے کے لیے ووٹر شناختی نظام کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

یہ بل اس وقت کانگریس میں مطلوبہ حمایت حاصل نہیں کر سکا ہے، حتیٰ کہ بعض ریپبلکن اراکین بھی اس کی مکمل حمایت کرنے سے گریزاں ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انتخابی قوانین میں اصلاحات کے بغیر امریکی جمہوریت کو خطرات لاحق رہیں گے۔

وائٹ ہاؤس نے نئی دستاویزات جاری کر دیں

خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس نے ایک نئی ویب سائٹ بھی متعارف کرائی جس پر مختلف سرکاری دستاویزات اور انٹیلی جنس رپورٹس کے منتخب حصے جاری کیے گئے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ان دستاویزات کو مکمل سیاق و سباق کے بغیر پیش کیا گیا ہے اور ان میں ایسی کوئی معلومات شامل نہیں جو انتخابی نتائج میں دھاندلی کے دعووں کو ثابت کر سکیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ان دستاویزات کا مقصد زیادہ تر ٹرمپ کے سیاسی بیانیے کو تقویت دینا ہے۔

چین پر تنقید، روس کا ذکر کم

اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ نے چین پر انتخابی عمل میں مداخلت کی کوششوں کا الزام عائد کیا، تاہم روس کے حوالے سے انہوں نے نسبتاً خاموشی اختیار کی۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے ماضی میں یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ روس نے 2016 اور 2020 کے انتخابات میں ٹرمپ کے حق میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی، مگر صدر نے اپنے خطاب میں ان الزامات کا ذکر نہیں کیا۔

اسی طرح انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ پر بھی براہِ راست تنقید سے گریز کیا، حالانکہ چین کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔

سابق انٹیلی جنس عہدیدار کی تنقید

ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں قومی انٹیلی جنس کی نائب سربراہ رہنے والی سو گورڈن نے صدر کے خطاب کو “انتہائی حساس موضوع پر خطرناک تقریر” قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکی انٹیلی جنس ادارے غیر ملکی مداخلت کے خطرات پر مسلسل خبردار کرتے رہے، لیکن اس وقت صدر نے ان انتباہات کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔

گورڈن کے مطابق انتخابی نظام پر بلا ثبوت شکوک و شبہات پیدا کرنا جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو کمزور کر سکتا ہے۔

محکمہ انصاف سے تحقیقات کا مطالبہ

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں امریکی محکمہ انصاف سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی معاملات سے متعلق مزید تحقیقات اور ممکنہ قانونی کارروائی شروع کرے۔

تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن مخصوص جرائم یا بے ضابطگیوں کی بنیاد پر نئی تحقیقات کی جائیں گی۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک سامنے آنے والی معلومات میں ایسا کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر فوجداری کارروائی کی جا سکے۔

انتخابی سیکیورٹی ادارے کے بجٹ میں کمی کی تجویز

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں صدر ٹرمپ غیر ملکی مداخلت کے خطرات پر زور دے رہے ہیں، وہیں ان کی نئی بجٹ تجاویز میں امریکی سائبر سیکیورٹی اور انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (CISA) کے بجٹ میں تقریباً 707 ملین ڈالر کی کمی کی سفارش بھی شامل ہے۔

یہ ادارہ امریکی انتخابی نظام کو بیرونی سائبر حملوں اور مداخلت سے محفوظ رکھنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا حالیہ خطاب آئندہ مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں انتخابی اصلاحات کے بجائے ایک سیاسی مہم کا حصہ معلوم ہوتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے حامیوں کو متحرک رکھنے اور انتخابی بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories