ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھوک ہڑتال مزید جاری رہی تو گردے، جگر اور دیگر اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
نئی دہلی: معروف سماجی کارکن اور ماحولیاتی مصلح سونم وانگچک کی نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف جاری بھوک ہڑتال بیسویں دن میں داخل ہو گئی ہے، جبکہ ڈاکٹروں نے ان کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طبی مداخلت نہ کی گئی تو ان کے جسم کے اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب دہلی ہائی کورٹ نے اس معاملے کو نہایت سنجیدہ قرار دیتے ہوئے مرکزی اور دہلی حکومت سے فوری جواب طلب کر لیا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ نے حکومت سے جواب طلب کر لیا
بدھ کے روز دہلی ہائی کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ایک عوامی مفاد کی درخواست پر ہوئی، جس میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ سونم وانگچک کو فوری طور پر مناسب طبی سہولیات، ہنگامی علاج اور زندگی بچانے کے لیے ضروری اقدامات فراہم کیے جائیں۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے دوران اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے مرکزی حکومت اور دہلی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ جمعرات کی صبح تک اپنا جواب عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک ایسے شخص کی جان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے جو جمہوری طریقے سے احتجاج کر رہا ہو۔
20 دن سے مسلسل بھوک ہڑتال، صحت تیزی سے گرنے لگی
سونم وانگچک گزشتہ 20 دن سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک، امتحانی نظام میں بدعنوانی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
طبی رپورٹس کے مطابق بھوک ہڑتال کے دوران ان کا وزن تقریباً ساڑھے آٹھ کلوگرام کم ہو چکا ہے۔ انہیں مسلسل کم بلڈ شوگر، شدید کمزوری، چکر آنے، جسمانی تھکن اور پٹھوں کی کمزوری جیسی علامات کا سامنا ہے۔
ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھوک ہڑتال مزید جاری رہی تو گردے، جگر اور دیگر اہم اعضا متاثر ہو سکتے ہیں، جس سے ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
علاج اور غذائی امداد فراہم کرنے کی اپیل
عدالت میں دائر درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت سونم وانگچک کو فوری طور پر ایمرجنسی طبی سہولیات، جان بچانے والا علاج اور ضروری غذائی معاونت فراہم کرے۔
درخواست گزاروں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت احتجاج کے بنیادی مطالبات پر سنجیدگی سے مذاکرات شروع کرے تاکہ معاملے کا پرامن حل نکالا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کرنے والے شہری کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کی حمایت جاری
سونم وانگچک اس وقت “کاکروچ جنتا پارٹی” (CJP) کے احتجاج میں شریک ہیں، جو 20 جون سے نیٹ امتحان میں مبینہ دھاندلی اور پیپر لیک کے خلاف جنتر منتر پر مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔
اس تنظیم کا قیام اس وقت عمل میں آیا تھا جب چیف جسٹس سوریہ کانت کے ایک بیان کے بعد بے روزگار نوجوانوں کی نمائندگی کے لیے اس پلیٹ فارم کی تشکیل کی گئی۔
تنظیم مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ نیٹ امتحان میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور مرکزی وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا چاہیے۔
معروف شخصیات کی بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
ملک کی متعدد سیاسی، سماجی اور ثقافتی شخصیات نے سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔
ان شخصیات میں سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، شیوسینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے، ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، معروف اداکار نصیرالدین شاہ، رتنا پاٹھک شاہ اور معروف مصنفہ اروندھتی رائے شامل ہیں۔
ان تمام رہنماؤں اور سماجی شخصیات نے وانگچک کی صحت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان سے اپنی جان کی حفاظت کے لیے احتجاج ختم کرنے کی درخواست کی ہے۔
“حکومت مذاکرات کیوں نہیں کر رہی؟”
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ سونم وانگچک کی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے اور ان کی جان کو حقیقی خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بھی وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی درخواست کی، مگر وانگچک نے واضح الفاظ میں جواب دیا کہ انہیں احتجاج ختم کرنے کے لیے نہ کہا جائے بلکہ حکومت سے سوال کیا جائے کہ وہ مذاکرات شروع کیوں نہیں کر رہی۔
دیپکے کے مطابق وانگچک کا مؤقف ہے کہ جب تک حکومت طلبہ کے مطالبات پر سنجیدگی سے بات چیت نہیں کرتی، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
لداخ تحریک اور جودھ پور جیل کا پس منظر
سونم وانگچک اس سے قبل لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دلانے کی تحریک کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
ستمبر 2025 میں ان کی بھوک ہڑتال کے دوران لیہ میں پرتشدد واقعات پیش آئے تھے، جن میں چار افراد ہلاک جبکہ تقریباً 90 زخمی ہوئے تھے۔
حکومت نے ان پر تشدد بھڑکانے کا الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد 26 ستمبر 2025 کو انہیں قومی سلامتی قانون (NSA) کے تحت گرفتار کر کے جودھ پور جیل منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ تقریباً 170 دن تک قید رہے۔
اب ایک بار پھر وہ امتحانی شفافیت اور طلبہ کے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، جبکہ ان کی مسلسل خراب ہوتی صحت نے حکومت، عدلیہ اور عوام کی توجہ اس معاملے کی جانب مبذول کرا دی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

