ویسٹ جیٹ اور فلائٹ اٹینڈنٹس یونین کے درمیان گزشتہ تقریباً دس ماہ سے نئے اجتماعی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک دونوں فریق کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
اوٹاوا: کینیڈا کی دوسری بڑی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ (WestJet) کے فلائٹ اٹینڈنٹس نے ممکنہ ہڑتال کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دے دیا ہے، جس کے بعد گرمیوں کی تعطیلات کے دوران لاکھوں مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو یونین کے ارکان 2 اگست سے قانونی طور پر ہڑتال شروع کر سکتے ہیں، جس سے ملک بھر میں فضائی آپریشن شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائز (CUPE) کے مطابق بدھ کے روز ووٹنگ کے نتائج سامنے آئے، جن میں 99.4 فیصد فلائٹ اٹینڈنٹس نے ہڑتال کے حق میں ووٹ دیا۔ یونین کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ملازمین موجودہ حالات سے شدید نالاں ہیں اور بہتر تنخواہوں، کام کے اوقات اور دیگر مراعات کے لیے مؤثر اقدامات چاہتے ہیں۔
4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس ہڑتال میں شامل ہو سکتے ہیں
ویسٹ جیٹ کے تقریباً 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس، جو CUPE لوکل 8125 کی نمائندگی میں ہیں، اس ہڑتال کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یونین کے مطابق اگر آئندہ چند دنوں میں کمپنی اور ملازمین کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوا تو 2 اگست سے ہڑتال قانونی طور پر شروع کی جا سکتی ہے۔
یہ تاریخ خاص طور پر اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ہڑتال ایسے وقت متوقع ہے جب کینیڈا کے کئی صوبوں میں سرکاری تعطیل سے ایک روز قبل سفری دباؤ اپنے عروج پر ہوتا ہے۔ ایسے میں ہزاروں ملکی اور بین الاقوامی پروازیں متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ووٹنگ میں ریکارڈ شرکت
یونین کے ایک نمائندے کے مطابق ہڑتال سے متعلق ووٹنگ میں 97.3 فیصد فلائٹ اٹینڈنٹس نے حصہ لیا، جو ملازمین کی غیر معمولی دلچسپی اور اتحاد کی علامت ہے۔
یونین کا کہنا ہے کہ یہ ووٹ کسی فوری ہڑتال کا اعلان نہیں بلکہ کمپنی کو یہ واضح پیغام ہے کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملازمین اجتماعی کارروائی سے گریز نہیں کریں گے۔
دس ماہ سے جاری ہیں مذاکرات
ویسٹ جیٹ اور فلائٹ اٹینڈنٹس یونین کے درمیان گزشتہ تقریباً دس ماہ سے نئے اجتماعی معاہدے پر مذاکرات جاری ہیں، تاہم اب تک دونوں فریق کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
یونین کا مؤقف ہے کہ مہنگائی، بڑھتے ہوئے رہائشی اخراجات اور کام کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ملازمین کو بہتر مالی اور پیشہ ورانہ سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
دوسری جانب ویسٹ جیٹ انتظامیہ نے ابھی تک ہڑتال کے ووٹ پر تفصیلی ردعمل جاری نہیں کیا، تاہم توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ کمپنی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالنے کی کوشش کرے گی تاکہ مسافروں کو مشکلات سے بچایا جا سکے۔
گرمیوں کی تعطیلات میں مسافروں کی پریشانی بڑھنے کا خدشہ
ہڑتال کی صورت میں سب سے زیادہ متاثر وہ مسافر ہوں گے جنہوں نے اگست کے آغاز میں اپنی تعطیلات یا کاروباری سفر کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر فلائٹ اٹینڈنٹس کام چھوڑ دیتے ہیں تو ویسٹ جیٹ کے لیے معمول کے مطابق پروازیں چلانا تقریباً ناممکن ہو جائے گا، کیونکہ فضائی قوانین کے تحت ہر پرواز میں مخصوص تعداد میں تربیت یافتہ فلائٹ اٹینڈنٹس کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔
اس صورتحال میں سینکڑوں پروازوں کی منسوخی یا تاخیر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف مسافروں بلکہ سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
گزشتہ سال بھی ایئر کینیڈا میں مزدور تنازع
یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب کینیڈا میں موسم گرما کے دوران بڑی ایئرلائنز مزدور تنازع کا شکار نظر آ رہی ہیں۔
گزشتہ سال ایئر کینیڈا کے تقریباً 10 ہزار فلائٹ اٹینڈنٹس نے بھی بغیر معاوضہ کیے جانے والے اضافی کام اور دیگر ملازمت سے متعلق مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی تھی، جس کے باعث ہزاروں مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی صنعت میں بڑھتے ہوئے اخراجات، عملے کی کمی اور ملازمین کے مطالبات کے باعث مزدور تنازعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مذاکرات کامیاب ہونے کی امید برقرار
یونین نے واضح کیا ہے کہ ہڑتال اب بھی آخری آپشن ہے اور وہ کمپنی کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہے۔
ادھر سفری ماہرین نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویسٹ جیٹ کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ معلومات پر نظر رکھیں، اپنی پروازوں کی صورتحال باقاعدگی سے چیک کریں اور اگر ممکن ہو تو متبادل سفری منصوبہ بھی تیار رکھیں۔
اگرچہ ہڑتال کا اختیار حاصل ہو چکا ہے، تاہم دونوں فریقوں کے پاس اب بھی معاہدے تک پہنچنے کے لیے وقت موجود ہے، اور یہی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو تاکہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران لاکھوں مسافروں کو کسی بڑی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

