کینیڈا

کینیڈا کے جنگلاتی دھویں نے ٹورنٹو کا دم گھونٹ دیا، آلودہ فضا امریکہ کے بڑے شہروں تک پہنچ گئی

📷 Canadian Wildfire Smoke Chokes Toronto, Reaches Major US Cities(Instant Image)

حکام کے مطابق آگ براہِ راست کسی بڑے شہر کو خطرہ نہیں پہنچا رہی، لیکن دھواں ہزاروں مربع کلومیٹر پر محیط علاقے کو متاثر کر رہا ہے

ٹورنٹو: کینیڈا کے شمال مغربی صوبہ اونٹاریو میں لگنے والی شدید جنگلاتی آگ کے نتیجے میں اٹھنے والا دھواں ملک کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو سمیت امریکہ کے کئی بڑے شہروں تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ماہرین نے صحت سے متعلق سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے اور جسمانی مشقت سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بدھ کے روز فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے عالمی ادارے IQAir کے مطابق ٹورنٹو دنیا کے بڑے شہروں میں سب سے زیادہ آلودہ فضا رکھنے والا شہر بن گیا۔ فہرست میں کانگو کا کنشاسا، بھارت کا دہلی اور امریکہ کا نیویارک بھی شامل رہے، تاہم ٹورنٹو میں آلودگی کی شدت سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

فضائی معیار انتہائی خطرناک سطح پر پہنچ گیا

کینیڈا کے محکمہ ماحولیات انوائرمنٹ کینیڈا کے مطابق ٹورنٹو میں ایئر کوالٹی ہیلتھ انڈیکس (AQHI) 10 پلس تک پہنچ گیا، جسے “انتہائی خطرناک” درجہ دیا جاتا ہے۔ حکام نے خبردار کیا کہ خراب فضائی حالات جمعرات کی رات تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں دمہ، دل اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد، بزرگ، بچے اور حاملہ خواتین کو خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو گھروں کے اندر رہیں، کھڑکیاں بند رکھیں اور ضرورت پڑنے پر ماسک کا استعمال کریں۔

جنگلاتی آگ سینکڑوں میل دور، مگر دھواں وسیع علاقوں تک پھیل گیا

اگرچہ جنگلاتی آگ ٹورنٹو سے سینکڑوں میل دور شمال مغربی اونٹاریو کے کم آبادی والے علاقوں میں لگی ہوئی ہے، تاہم اس سے اٹھنے والا دھواں تیز ہواؤں کے باعث جنوبی کینیڈا اور شمال مشرقی امریکہ تک پہنچ گیا ہے۔

حکام کے مطابق آگ براہِ راست کسی بڑے شہر کو خطرہ نہیں پہنچا رہی، لیکن دھواں ہزاروں مربع کلومیٹر پر محیط علاقے کو متاثر کر رہا ہے، جس سے روزمرہ زندگی اور صحت دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔

امریکہ کے بڑے شہر بھی متاثر

کینیڈا سے اٹھنے والا دھواں امریکہ کے شہر نیویارک اور اس کے اطراف بھی پہنچ گیا ہے، جہاں مقامی حکام نے فضائی آلودگی کے باعث الرٹ جاری کر دیا ہے۔

نیویارک کے رہائشیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ بدھ اور جمعرات کے دوران زیادہ دیر تک باہر رہنے سے گریز کریں اور جسمانی مشقت کم کریں۔ امریکی نیشنل ویدر سروس کے مطابق دھواں ہفتے کے اختتام تک برقرار رہ سکتا ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر ماحولیات ڈین ویسٹر ویلٹ کا کہنا ہے کہ نیویارک اور مشرقی امریکہ میں فضائی آلودگی کی صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ جنگلاتی دھواں مسلسل جنوب کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ورلڈ کپ کے فائنل پر بھی اثرات

خراب فضائی معیار نے کھیلوں کی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ٹورنٹو شہر نے فیفا فین فیسٹیول اور نیتھن فلپس اسکوائر میں انگلینڈ اور ارجنٹینا کے درمیان ہونے والے ورلڈ کپ سیمی فائنل کی بڑی اسکرین پر نشریات منسوخ کر دی ہیں۔

دوسری جانب امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں اتوار کو ہونے والے فیفا ورلڈ کپ فائنل کے دوران 80 ہزار سے زائد شائقین کی آمد متوقع ہے، جبکہ تقریباً 50 ہزار افراد نیویارک کے سینٹرل پارک میں میچ دیکھنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر دھواں برقرار رہا تو ان تقریبات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔

جنگلاتی آگ سے ریل اور نقل و حمل متاثر

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی وائرل ہوئی جس میں کینیڈین نیشنل ریلوے کی ایک مال گاڑی کو آگ کے شعلوں کے درمیان گزرتے دیکھا گیا۔

ریلوے کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ آرم اسٹرونگ کے علاقے میں اپنے ملازمین اور مقامی آبادی کو احتیاطاً محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ جنگلاتی آگ کے باعث اس علاقے میں ریل سروس عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے۔

بچوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے بچایا گیا

امریکی ریاست مینی سوٹا سے تعلق رکھنے والے بچوں کے دو گروپ، جو کینیڈا کے جنگلات میں کیمپنگ کے لیے آئے تھے، جنگلاتی آگ کے باعث محصور ہو گئے۔

رپورٹس کے مطابق ایک گروپ کو کینیڈین فوج کے تعاون سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ دوسرے گروپ کو بھی ریسکیو ٹیموں نے بحفاظت نکال لیا۔

ملک بھر میں سیکڑوں جنگلاتی آگ بدستور جاری

کینیڈا کی وفاقی حکومت کے مطابق بدھ کے روز ملک بھر میں 835 جنگلاتی آگ سرگرم تھیں، جن میں سے 112 آگ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 19 لاکھ ہیکٹر سے زائد رقبہ جل چکا ہے۔ سب سے زیادہ آگ صوبہ اونٹاریو، مانیٹوبا اور سسکیچیوان میں لگی ہوئی ہے۔

اگرچہ حکومت کا کہنا ہے کہ 2026 میں جنگلاتی آگ کا آغاز گزشتہ دو انتہائی خطرناک برسوں کے مقابلے میں نسبتاً سست رہا، تاہم غیر معمولی گرمی اور خشک موسم کے باعث آئندہ ہفتوں میں مزید آگ بھڑکنے کا خدشہ برقرار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کینیڈا میں جنگلاتی آگ کی شدت اور دورانیہ مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کے اثرات نہ صرف کینیڈا بلکہ امریکہ کے بڑے شہروں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories