فرسٹ نیشنز ٹرسٹ فنڈ تنازع شدت اختیار کر گیا
اوٹاوا: کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں علیحدگی پسند تحریک کے سرگرم رہنما اور معروف وکیل جیفری ریتھ (Jeffrey Rath) کو ایک بڑے قانونی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ البرٹا کورٹ آف کنگز بینچ نے فرسٹ نیشنز کے ایک معاہداتی تصفیے سے متعلق ٹرسٹ فنڈ تنازع کے دوران ریتھ اور ان کی قانونی فرم کے تقریباً 85 لاکھ کینیڈین ڈالر مالیت کے اثاثے عارضی طور پر منجمد کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق 10 جولائی کو جسٹس میریئن نے جیفری ریتھ اور ان کی پروفیشنل کارپوریشن “جیفری آر ڈبلیو ریتھ پروفیشنل کارپوریشن”، جو “ریتھ اینڈ کمپنی” کے نام سے کام کرتی ہے، کے خلاف عبوری “ماریوا آرڈر” (Mareva Order) جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس بات کے معقول خدشات موجود ہیں کہ مقدمے کے حتمی فیصلے سے قبل اثاثے منتقل یا ضائع کیے جا سکتے ہیں۔
ماریوا آرڈر کیا ہوتا ہے؟
قانونی ماہرین کے مطابق ماریوا آرڈر ایک غیر معمولی عدالتی حکم ہوتا ہے جس کا مقصد مقدمے کے فیصلے سے پہلے مدعا علیہ کو اپنے اثاثے فروخت کرنے، منتقل کرنے یا چھپانے سے روکنا ہوتا ہے تاکہ اگر عدالت بعد میں مالی ادائیگی کا حکم دے تو اس پر عمل درآمد ممکن ہو سکے۔
عدالتی حکم کے تحت تقریباً 85 لاکھ 18 ہزار 75 کینیڈین ڈالر مالیت کے قابل ضبط اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں۔ ان میں بینک اور سرمایہ کاری اکاؤنٹس، گاڑیاں، جائیدادیں، ذاتی اثاثے اور کمپنی کے حصص شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عدالت نے ریتھ کو ایسے قرض، لائن آف کریڈٹ یا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنے سے بھی روک دیا ہے جن کی ضمانت ان کی جائیداد سے وابستہ ہو۔
یہ عبوری حکم 15 جولائی تک نافذ رہے گا، جب عدالت میں اس معاملے کی مزید سماعت کی جائے گی۔
وکیل نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا
جیفری ریتھ نے اس عدالتی حکم پر میڈیا کے سوالات کا براہ راست جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، اس لیے وہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
ریتھ البرٹا پروسپیریٹی پروجیکٹ (Alberta Prosperity Project) کے بانی اراکین میں شامل ہیں اور البرٹا کی علیحدگی پسند تحریک کی نمایاں آواز سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کئی برسوں سے مختلف فرسٹ نیشنز کمیونٹیز کی نمائندگی کرتے ہوئے تاریخی معاہداتی تصفیوں میں بھی اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔
فیس کے تنازع سے ٹرسٹ فنڈ کی لڑائی تک
عدالتی کارروائی دراصل ٹالکری فرسٹ نیشن (Tallcree First Nation) اور جیفری ریتھ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کا حصہ ہے، جو ابتدا میں قانونی فیس کے اختلاف سے شروع ہوا تھا لیکن بعد ازاں کروڑوں ڈالر کے ٹرسٹ فنڈ کے معاملے تک پہنچ گیا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ ٹالکری فرسٹ نیشن کی جانب سے لگائے گئے الزامات ابھی عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں اور ان پر قانونی کارروائی جاری ہے۔
2021 کے فیصلے میں فیس کم کر دی گئی تھی
سن 2021 میں البرٹا کی عدالت نے ریتھ اینڈ کمپنی کی جانب سے ٹالکری فرسٹ نیشن کے 5 کروڑ 76 لاکھ کینیڈین ڈالر کے ٹریٹی 8 تصفیے پر وصول کی جانے والی 20 فیصد قانونی فیس کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اسے کم کر دیا تھا۔
عدالت نے اس وقت ریتھ اینڈ کمپنی کو تقریباً 85 لاکھ کینیڈین ڈالر واپس فرسٹ نیشن ٹرسٹ فنڈ میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔
نابالغ بچوں کے حصص بھی ٹرسٹ میں محفوظ تھے
ٹالکری فرسٹ نیشن کے چیف روپرٹ مینین کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے مطابق اس ٹرسٹ میں تصفیے کی رقم مستحق افراد میں تقسیم کی جاتی تھی جبکہ نابالغ ارکان کے حصص اس وقت تک محفوظ رکھے جاتے تھے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائیں۔
حلف نامے میں بتایا گیا کہ ریتھ اینڈ کمپنی اس ٹرسٹ کی واحد ٹرسٹی تھی اور اسی کے پاس تمام مالی معاملات کی ذمہ داری تھی۔
مالی بے ضابطگیوں کے نئے الزامات
ٹالکری فرسٹ نیشن کی جانب سے دائر نئی عدالتی درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ جیفری ریتھ نے طویل عرصے تک ٹرسٹ کی مالیاتی رپورٹس فراہم نہیں کیں۔
درخواست کے مطابق عدالت میں پیش کی گئی مالی دستاویزات سے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ سال 2024 کے دوران ریتھ نے ٹرسٹ سے 60 لاکھ کینیڈین ڈالر سے زائد کی رقم بطور فیس وصول کی، حالانکہ اسی مالی سال میں انہیں عدالت کے حکم کے مطابق 85 لاکھ ڈالر واپس بھی کرنا تھے۔
ٹالکری فرسٹ نیشن کے وکلا کا مؤقف ہے کہ دستیاب شواہد سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ عدالت کی جانب سے واپس کرائی گئی بڑی رقم درحقیقت خود ٹرسٹ کے فنڈز سے پوری کی گئی، جس سے ٹرسٹ اور اس کے مستحقین کو مالی نقصان پہنچا ہو سکتا ہے۔
عدالت میں اس معاملے کی مزید سماعت 15 جولائی کو ہوگی، جہاں فریقین اپنے اپنے دلائل اور شواہد پیش کریں گے، جبکہ ماریوا آرڈر کے مستقبل کے بارے میں بھی فیصلہ متوقع ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

