کینیڈا

کینیڈا اکتوبر میں بھارت بھیجے گا بڑا تجارتی وفد، دوطرفہ تجارت دگنی کرنے کی تیاری

📷 Canada to Send Major Trade Delegation to India in October(Instant Image)

کینیڈا نے بھارت کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اکتوبر میں اعلیٰ سطحی تجارتی وفد بھارت بھیجنے کا اعلان کیا ہے

وزیر تجارت منیندر سدھو کاروباری وفد کی قیادت کریں گے

کینیڈا نے بھارت کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اکتوبر میں اعلیٰ سطحی تجارتی وفد بھارت بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈا کے وزیر برائے بین الاقوامی تجارت منیندر سدھو 12 سے 16 اکتوبر 2026 تک اس وفد کی قیادت کریں گے۔ اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعاون کو فروغ دینا ہے، جبکہ جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی کوششوں کو بھی آگے بڑھایا جائے گا۔

بھارتی معیشت کو بہترین کاروباری موقع قرار دیا گیا

وزیر تجارت منیندر سدھو نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور کینیڈین کاروباری اداروں کے لیے وہاں بے شمار نئے مواقع موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کینیڈا کی کمپنیاں دنیا کی متحرک ترین منڈیوں میں اپنا کاروبار بڑھانا چاہتی ہیں تو انہیں اس تجارتی وفد میں ضرور شامل ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق یہ مشن صرف تجارتی روابط تک محدود نہیں ہوگا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کی بنیاد بھی مضبوط کرے گا۔

2030 تک تجارت دگنی کرنے کا ہدف

کینیڈا اور بھارت کے درمیان اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 31 ارب کینیڈین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔

جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) کا بنیادی مقصد 2030 تک اس تجارتی حجم کو بڑھا کر دوگنا کرنا ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان برآمدات، درآمدات، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

بھارتی کاروباری وفد کے بعد اب کینیڈا کی باری

منیندر سدھو نے کہا کہ رواں سال کے آغاز میں بھارت نے اپنی تاریخ کا سب سے بڑا کاروباری وفد کسی بھی ایک ملک کے لیے کینیڈا بھیجا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب کینیڈا اسی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنا مضبوط تجارتی وفد بھارت بھیج رہا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان کاروباری روابط مزید مستحکم ہو سکیں۔

اسی مقصد کے تحت کینیڈا کی وزارت خارجہ گلوبل افیئرز کینیڈا نے وفد میں شامل ہونے کے لیے کاروباری اداروں سے درخواستیں بھی طلب کر لی ہیں۔

سی ای پی اے مذاکرات کا تیسرا دور مکمل

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور کینیڈا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) پر مذاکرات کا تیسرا دور حال ہی میں اوٹاوا میں مکمل ہوا ہے۔

دونوں ممالک کے مذاکرات کار مختلف شعبوں میں تجارتی رکاوٹیں کم کرنے، سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے مختلف پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں۔

مودی اور کارنی کی ملاقاتوں میں بھی معاہدے پر زور

سی ای پی اے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان نومبر 2025 میں جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کی ملاقات کے بعد کیا گیا تھا۔

بعد ازاں رواں سال مارچ میں مارک کارنی نے وزیر اعظم بننے کے بعد اپنے پہلے دورۂ بھارت کے دوران نئی دہلی میں نریندر مودی سے ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے مذاکرات کا باضابطہ آغاز کیا۔

جون میں فرانس کے شہر ایویان میں جی 7 اجلاس کے موقع پر دونوں رہنما ایک بار پھر ملے اور سی ای پی اے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقتصادی تعلقات کو مستقبل کی ضروریات کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

سال کے اختتام تک معاہدہ مکمل کرنے کی کوشش

بھارت اور کینیڈا نے اس معاہدے کو رواں سال کے اختتام تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دسمبر میں امریکہ کے شہر میامی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس سے پہلے مذاکرات کو حتمی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس موقع پر کہا تھا کہ وہ سال کے اختتام سے قبل کینیڈا کا دورہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

کاروباری وفد میں کیا سرگرمیاں ہوں گی؟

کینیڈا کی حکومت کے مطابق تجارتی وفد کے دوران مختلف کاروباری سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

ان میں وزیر تجارت منیندر سدھو اور بھارتی کاروباری رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں، کینیڈین ٹریڈ کمشنرز اور مقامی ماہرین کی جانب سے کاروباری بریفنگز، مختلف صنعتی مراکز کے دورے اور اہل کمپنیوں کے لیے پہلے سے طے شدہ بزنس ٹو بزنس (B2B) ملاقاتیں شامل ہوں گی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ہر شہر میں وہاں کی صنعتی صلاحیت اور تجارتی ضروریات کے مطابق پروگرام ترتیب دیے جائیں گے، تاہم بعض مخصوص شعبوں سے متعلق سرگرمیاں صرف منتخب شہروں تک محدود ہو سکتی ہیں۔

تجارتی تعلقات میں نئی پیش رفت کی امید

تجزیہ کاروں کے مطابق کینیڈا اور بھارت کے درمیان حالیہ برسوں میں تعلقات میں اتار چڑھاؤ ضرور آیا، تاہم اب دونوں ممالک معاشی تعاون کو ترجیح دیتے ہوئے نئے تجارتی مواقع تلاش کر رہے ہیں۔

اگر سی ای پی اے معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، زراعت، توانائی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے دروازے کھلنے کی توقع ہے، جس سے دونوں معیشتوں کو نمایاں فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories