نئی پائپ لائن کی راہ ہموار,وفاقی اور البرٹا حکومت کا توانائی کے شعبے میں بڑا قدم
البرٹا حکومت، وفاقی حکومت اور آئل سینڈز کی پانچ بڑی توانائی کمپنیوں نے اربوں ڈالر مالیت کے “پاتھ ویز کاربن کیپچر اینڈ اسٹوریج” منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو کینیڈا کے توانائی شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے نہ صرف کاربن کے اخراج میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی بلکہ مجوزہ نئی ویسٹ کوسٹ آئل پائپ لائن منصوبے کے لیے بھی راہ ہموار ہوگی۔
حکام کے مطابق یہ منصوبہ کینیڈا کی توانائی برآمدات کو بڑھانے، ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے اور معیشت کو مضبوط بنانے کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔
نئی پائپ لائن منصوبے کے لیے اہم شرط
پاتھ ویز کاربن کیپچر منصوبے کو مجوزہ ویسٹ کوسٹ آئل سینڈز پائپ لائن کی منظوری کے لیے ایک بنیادی شرط تصور کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کے تحت آئل سینڈز کی پیداوار میں اضافے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اضافی کاربن اخراج کو کم کرنے کے لیے جدید کاربن کیپچر ٹیکنالوجی استعمال کی جائے گی، تاکہ ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو محدود رکھا جا سکے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کاربن اخراج کو مؤثر انداز میں قابو نہ کیا گیا تو مستقبل میں بڑے توانائی منصوبوں کی منظوری مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
معاہدے کے تحت نئی پالیسیاں متعارف ہوں گی
اس معاہدے کے تحت وفاقی اور البرٹا حکومت ایسی مالیاتی اور ریگولیٹری پالیسیاں متعارف کرائیں گی جو آئل سینڈز کی پیداوار میں اضافے کی حوصلہ افزائی کریں گی۔
اس کا مقصد یہ ہے کہ البرٹا سے برٹش کولمبیا کے جنوبی ساحل تک مجوزہ نئی پائپ لائن اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ استعمال ہو سکے اور کینیڈین تیل کو عالمی منڈیوں تک زیادہ مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے توانائی کی برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری میں وسعت اور ہزاروں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
2 جولائی کو دستخط، اسی روز پائپ لائن منصوبہ بھی جمع کرایا گیا
اگرچہ اس معاہدے کا اعلان پیر کو کیا گیا، تاہم اس پر باضابطہ دستخط 2 جولائی کو کیے گئے تھے۔
اسی روز البرٹا حکومت نے اپنے مجوزہ ویسٹ کوسٹ پائپ لائن منصوبے کو وفاقی حکومت کے میجر پراجیکٹس آفس میں بھی باضابطہ طور پر جمع کرا دیا تھا، جسے توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈینیئل اسمتھ کا بیان
البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ کینیڈا کی تاریخ کے تمام بڑے قومی منصوبے حکومتوں اور صنعت کے درمیان مضبوط شراکت داری کے نتیجے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدہ بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس کے ذریعے حکومتیں اور نجی شعبہ مل کر معیشت کو مضبوط، توانائی کے تحفظ کو بہتر اور ملک بھر میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے کام کریں گے۔
ان کے مطابق توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری سے نہ صرف البرٹا بلکہ پورے کینیڈا کو فائدہ ہوگا۔
وفاقی حکومت نے ٹیکس مراعات بڑھانے کا اعلان کیا
وفاقی وزیر توانائی و قدرتی وسائل ٹم ہاجسن نے کہا کہ گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران وفاقی اور البرٹا حکومت توانائی کے مختلف منصوبوں پر قریبی تعاون کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں کا مقصد توانائی کے بڑے منصوبوں کی تعمیر، کاربن اخراج میں کمی، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور کینیڈا کی توانائی خودمختاری کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وفاقی حکومت کاربن کیپچر سے متعلق مختلف آلات پر دستیاب سرمایہ کاری ٹیکس کریڈٹس کی مدت 2035 تک بڑھا رہی ہے تاکہ کمپنیاں اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کر سکیں۔
دوسری جانب البرٹا حکومت نے بھی اپنے کاربن کیپچر مراعاتی پروگرام کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا ہے۔
منصوبہ 2035 تک مکمل ہوگا
معاہدے کے مطابق پاتھ ویز منصوبے پر مرحلہ وار کام کیا جائے گا۔
اس منصوبے کا بنیادی انفراسٹرکچر یکم جنوری 2032 تک فعال کر دیا جائے گا، جبکہ پورے منصوبے کو 2035 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے کینیڈا کو ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
پانچ بڑی کمپنیاں منصوبے میں شامل
پاتھ ویز الائنس میں کینیڈا کی پانچ بڑی آئل سینڈز کمپنیاں شامل ہیں، جن میں کینیڈین نیچرل ریسورسز، امپیریل آئل، سنکور، سینووَس انرجی اور کونوکو فلپس شامل ہیں۔
یہ تمام کمپنیاں مشترکہ طور پر منصوبے کے لیے سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کریں گی۔
سالانہ 60 لاکھ ٹن کاربن محفوظ کرنے کی صلاحیت
پاتھ ویز الائنس کے صدر کینڈل ڈِلنگ نے اس معاہدے کو آئل سینڈز صنعت کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ فریم ورک صنعت کو ماحول دوست انداز میں ترقی دینے میں مدد دے گا اور مستقبل میں پیداوار میں اضافے کے باوجود کاربن اخراج کو محدود رکھا جا سکے گا۔
ان کے مطابق منصوبہ 2030 کی دہائی کے وسط تک سالانہ تقریباً 60 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جمع کرکے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھے گا۔
کاربن کو زیر زمین محفوظ کیا جائے گا
اس منصوبے کے تحت شمالی البرٹا میں قائم مختلف آئل سینڈز تنصیبات سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ایک خصوصی پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے کولڈ لیک، البرٹا کے قریب واقع زیر زمین ذخیرہ گاہ تک منتقل کیا جائے گا۔
یہ کاربن مستقل طور پر زمین کی گہرائی میں محفوظ کی جائے گی تاکہ فضا میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کیا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہوتا ہے تو کینیڈا کاربن کیپچر اور ذخیرہ کرنے کی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے دنیا کے نمایاں ممالک میں شامل ہو جائے گا، جبکہ توانائی کی پیداوار اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان بہتر توازن بھی قائم کیا جا سکے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

