وفاقی حکومت کا کاروباری شعبے کے لیے اہم اقدام، پیداواری صلاحیت اور برآمدات میں اضافہ ہوگا
کینیڈا کی وفاقی حکومت نے برٹش کولمبیا کے شہر سرے کی چار کمپنیوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانے، نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے اور عالمی تجارتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے 80 لاکھ کینیڈین ڈالر سے زائد کی مالی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری ریجنل ٹیرف رسپانس انیشی ایٹو (RTRI) کے تحت کی جا رہی ہے، جس کا مقصد عالمی تجارتی تبدیلیوں اور امریکی ٹیرف کے باعث متاثر ہونے والے کاروبار کو مضبوط بنانا ہے۔
اس منصوبے کا اعلان سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے بین الاقوامی ترقی اور سرے سینٹر سے رکن پارلیمنٹ رندیپ سرائے نے وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر اور پیسیفک اکنامک ڈیولپمنٹ کینیڈا (PacifiCan) کے ذمہ دار وزیر گریگر رابرٹسن کی جانب سے کیا۔
تجارتی مشکلات کے باوجود کاروبار کو مضبوط بنانے کی کوشش
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ برٹش کولمبیا کی معیشت مضبوط مقامی کاروباروں پر قائم ہے، جو روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور مقامی کمیونٹیز کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں عالمی تجارتی حالات، امریکی ٹیرف اور سپلائی چین میں رکاوٹوں نے کاروباری اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔
حکومت کے مطابق ان حالات میں مقامی کمپنیوں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے، پیداواری لاگت کم کرنے، سپلائی چین مضبوط بنانے اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی دلانے کے لیے یہ سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
AI Industries کو جدید مشینری کی فراہمی
اعلان سرے میں قائم کمپنی AI Industries میں کیا گیا، جو شمالی امریکہ میں تعمیراتی منصوبوں کے لیے اسٹیل کے مختلف پرزے تیار کرتی ہے۔ کمپنی کی مصنوعات سرے سِوک سینٹر سمیت کئی بڑے منصوبوں میں استعمال ہو چکی ہیں۔
وفاقی سرمایہ کاری کے ذریعے کمپنی جدید خودکار فیبریکیشن اور ویلڈنگ مشینری نصب کرے گی، جس سے اس کی پیداواری صلاحیت اور معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
حکام کے مطابق اس منصوبے سے کمپنی نئی بین الاقوامی منڈیوں میں داخل ہو سکے گی، سپلائی چین مزید مستحکم ہوگی اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
نانک فوڈز کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا
فنڈنگ حاصل کرنے والی کمپنیوں میں سرے کی معروف ڈیری مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی نانک فوڈز بھی شامل ہے۔
یہ کمپنی پنیر، گھی، دہی اور دودھ سے تیار ہونے والی مختلف غذائی اشیا تیار کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی مالی معاونت کے ذریعے کمپنی اپنی پیداواری لائن اور گودام کے نظام کو خودکار (Automation) بنائے گی۔
اس اقدام سے پیداوار میں اضافہ ہوگا، گھریلو سطح پر خوراک کی تیاری مضبوط ہوگی اور کمپنی کو نئی عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے بہتر مواقع حاصل ہوں گے۔
دیگر کمپنیوں کو بھی مالی تعاون
وفاقی حکومت نے سرے کی مزید دو کمپنیوں کو بھی اسی پروگرام کے تحت مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان سرمایہ کاریوں کا مقصد خاص طور پر ایسے شعبوں کو سہارا دینا ہے جو عالمی تجارتی دباؤ، ٹیرف، مینوفیکچرنگ، اسٹیل، ایلومینیم اور جنگلاتی صنعت سے متعلق مسائل سے متاثر ہوئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے کمپنیوں کو جدید ٹیکنالوجی، زیادہ مؤثر پیداواری نظام اور مضبوط سپلائی چین کی سہولت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ عالمی مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
وزیر گریگر رابرٹسن کا بیان
وفاقی وزیر گریگر رابرٹسن نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ سرے اور پورے کینیڈا کے کاروباری اداروں کو ترقی کے لیے ضروری وسائل اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آج اعلان کی جانے والی سرمایہ کاری سے اہم صنعتی شعبوں کی کمپنیوں کو اپنی سپلائی چین مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی اپنانے اور نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
ان کے مطابق حکومت ایسے اقدامات کے ذریعے پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دے رہی ہے تاکہ تمام کینیڈین شہری اس کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
رندیپ سرائے کا مؤقف
رندیپ سرائے نے کہا کہ برٹش کولمبیا میں باصلاحیت افراد، جدت پسند کاروباری ادارے اور مضبوط صنعتی بنیاد موجود ہے، جو بدلتی ہوئی عالمی معیشت میں نئی کامیابیاں حاصل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری سرے کی کمپنیوں کو نہ صرف کینیڈا بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گی۔
ان کے مطابق مقامی صنعتوں میں سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی اور سرے کے ساتھ ساتھ پورے کینیڈا کی معیشت مزید مضبوط ہوگی۔
کمپنیوں نے حکومتی تعاون کا خیر مقدم کیا
AI Industries کے شریک مالک اور جنرل منیجر کریم والجی نے کہا کہ موجودہ عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال اور ٹیرف کے دباؤ کے دوران یہ مالی معاونت مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے نہایت اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید آٹومیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے کمپنی اپنی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے گی، عالمی سطح پر مسابقت بہتر ہوگی اور اس کے فوائد کینیڈا بھر کے سپلائرز، سب کنٹریکٹرز اور تعمیراتی شعبے سے وابستہ اداروں تک پہنچیں گے۔
دوسری جانب نانک فوڈز کے صدر گرپریت ارنیجا نے کہا کہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا کی فوڈ مینوفیکچرنگ صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔
ان کے مطابق خودکار پیداواری نظام سے کمپنی کی عالمی مسابقت بڑھے گی، روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے، ملکی ڈیری انڈسٹری مضبوط ہوگی اور برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔
کاروباری شعبے کو مستقبل کے لیے تیار کرنے کی کوشش
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ ریجنل ٹیرف رسپانس انیشی ایٹو کے ذریعے ایسے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو مقامی صنعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، عالمی تجارتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائیں اور کینیڈا کی معیشت کو طویل مدت تک مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

