کینیڈا میں 2026 فیفا مردوں کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی سے متعلق ایک نئی سرکاری تجزیاتی رپورٹ نے بڑے مالی اخراجات کو اجاگر کیا ہے۔ پارلیمانی بجٹ آفس (PBO) کی جانب سے جاری کردہ اس تفصیلی جائزے کے مطابق اس عالمی کھیلوں کے ایونٹ میں کینیڈا کے حصے میں آنے والے میچوں پر ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر خرچ ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کے دوران کینیڈا میں مجموعی طور پر 13 میچز کھیلے جائیں گے۔ ان میچوں سے جڑے ہوئے تمام اخراجات کو شامل کرتے ہوئے مجموعی لاگت کا تخمینہ تقریباً 1.1 ارب کینیڈین ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس میں وفاقی حکومت کا حصہ تقریباً 473 ملین ڈالر بتایا گیا ہے جبکہ باقی تقریباً 593 ملین ڈالر صوبائی اور مقامی حکومتیں برداشت کریں گی۔
پارلیمانی بجٹ آفس کے مطابق اس مجموعی لاگت کو اگر کینیڈا میں کھیلے جانے والے میچوں پر تقسیم کیا جائے تو ہر میچ کی اوسط لاگت تقریباً 82 ملین ڈالر بنتی ہے۔ یہ رقم صرف کھیل کے انعقاد تک محدود نہیں بلکہ اس میں سیکیورٹی، اسٹیڈیم کی تیاری، انتظامی اخراجات اور مختلف سرکاری اداروں کی اضافی خدمات بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے بڑے بین الاقوامی ایونٹس دنیا کے سب سے مہنگے کھیلوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں ایک میچ کی لاگت بعض اوقات قومی سطح کے بڑے بجٹ پروگراموں کے برابر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ نے کینیڈا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا اتنے بڑے پیمانے پر عوامی فنڈز کا استعمال درست ہے یا نہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا میں اخراجات کا بڑا حصہ دو اہم شہروں ٹورنٹو اور وینکوور سے متعلق ہوگا۔ ان شہروں میں اسٹیڈیمز کی اپ گریڈیشن، انفراسٹرکچر کی بہتری، ٹرانسپورٹ اور سیکیورٹی انتظامات پر بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ بارڈر سروسز کی اضافی ذمہ داریاں اور رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس کی خصوصی تعیناتی بھی ان اخراجات میں شامل ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کینیڈین حکومت نے تقریباً 126 ملین ڈالر مخصوص منصوبوں کے لیے مختص کیے ہیں، جن میں بی ایم او فیلڈ کی اپ گریڈیشن، بی سی پلیس وینکوور کی بہتری اور فیفا کے ٹریننگ سائٹس کی تیاری شامل ہے۔ یہ فنڈز کینیڈین ہیریٹیج ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے فراہم کیے جا رہے ہیں۔
پارلیمانی بجٹ آفس نے اپنے تجزیے میں اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ کینیڈا کا فی میچ خرچ دیگر حالیہ ورلڈ کپ ایونٹس کے مقابلے میں کم ہے۔ مثال کے طور پر برازیل 2014 اور روس 2018 کے ورلڈ کپ میں فی میچ اخراجات اس سے زیادہ رپورٹ کیے گئے تھے۔ تاہم 2022 کے قطر ورلڈ کپ کے لیے براہ راست موازنہ کے اعداد و شمار شامل نہیں کیے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ جیسے ایونٹس اگرچہ بہت زیادہ اخراجات کا باعث بنتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ معاشی سرگرمیوں میں اضافہ، سیاحت کو فروغ، عالمی سطح پر ملک کی تشہیر اور طویل مدتی سرمایہ کاری جیسے فوائد بھی جڑے ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے ایونٹس میزبان ملک کے لیے ایک موقع بھی ہوتے ہیں کہ وہ اپنی بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کرے۔
دوسری جانب کچھ معاشی ماہرین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس بات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کے بجائے اس طرح کے بڑے اسپورٹس ایونٹس پر اربوں ڈالر خرچ کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق حکومت کو عوامی فنڈز کے استعمال میں زیادہ شفافیت اور ترجیحات کا خیال رکھنا چاہیے۔
حکومتی موقف کے مطابق ورلڈ کپ 2026 کینیڈا کے لیے ایک تاریخی موقع ہے جو نہ صرف ملک کی عالمی شناخت کو بہتر بنائے گا بلکہ طویل مدت میں سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ کرے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اخراجات کو صرف لاگت کے طور پر نہیں بلکہ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
مجموعی طور پر یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کینیڈا کے لیے ایک بڑے کھیلوں کے ایونٹ کے ساتھ ساتھ ایک بھاری مالی ذمہ داری بھی ہے، جس پر آنے والے مہینوں میں سیاسی اور عوامی سطح پر مزید بحث ہونے کا امکان ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

