دنیا اس وقت توانائی کے ایک ایسے بحران سے گزر رہی ہے جس نے عالمی معیشت، صنعتی پیداوار اور عوامی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کئی ممالک ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، رسد میں رکاوٹوں اور ماحولیاتی خطرات جیسے مسائل سے بیک وقت نبرد آزما ہیں۔ ایسے ماحول میں مختلف ممالک اپنی توانائی پالیسیوں پر ازسرِ نو غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں توانائی کے محفوظ، مستحکم اور پائیدار نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہی عالمی حالات کے تناظر میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم نے بھی اہم بیان دیا ہے۔
کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے حال ہی میں کہا ہے کہ موجودہ وقت میں پوری دنیا سنگین توانائی بحران سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف توانائی کی سپلائی میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں جبکہ دوسری طرف توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ عالمی معیشت اب ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں توانائی کے تحفظ اور پائیدار ترقی کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
کارنی کے مطابق دنیا بھر کے ممالک کو روایتی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کی جانب تیزی سے پیش رفت کرنا ہوگی تاکہ آنے والے برسوں میں اس بحران پر قابو پایا جا سکے اور معاشی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
یہ بیان وزیرِ اعظم نے وینکوئیر کے دورے کے دوران دیا جہاں انہوں نے برٹش کولمبیا کی صوبائی قیادت سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عالمی توانائی منڈی کی صورتحال، تیل و گیس کے وسائل، اور مستقبل کی توانائی حکمتِ عملیوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صوبے کے پریمیئر ڈیوڈ ایبی نے بھی اپنے علاقے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور قدرتی وسائل کے استعمال سے متعلق پالیسیوں پر روشنی ڈالی۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معاشی ترقی، ماحولیات کے تحفظ اور توانائی کی مسلسل فراہمی کے درمیان متوازن پالیسی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق مستقبل کا توانائی نظام ایسا ہونا چاہیے جو نہ صرف صنعتی ضروریات پوری کرے بلکہ ماحول کو بھی کم سے کم نقصان پہنچائے۔
کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئے مارک کارنی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر پیدا ہونے والے معاشی اور سیاسی بحرانوں نے توانائی کی فراہمی کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف خطوں میں جنگی کشیدگی، تجارتی تنازعات اور سپلائی چین کے مسائل نے توانائی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ پیدا کیا، جس کے اثرات صنعتوں اور عام صارفین دونوں پر پڑے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ممالک اپنی توانائی پالیسیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں اور ایسے اقدامات کریں جن سے سپلائی نظام زیادہ مضبوط اور قابلِ اعتماد بن سکے۔
اپنے خطاب میں کینیڈائی وزیرِ اعظم نے یہ اشارہ بھی دیا کہ حکومت آئندہ عرصے میں بڑے انفراسٹرکچر اور توانائی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کی پالیسی پر عمل کرے گی۔ ان کے مطابق منصوبوں کی منظوری کے مراحل کو آسان بنانے سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور معیشت کو نئی رفتار ملے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت صاف توانائی سے متعلق پالیسیوں میں ضروری تبدیلیاں لانے پر غور کر رہی ہے تاکہ معاشی ترقی اور ماحولیاتی اہداف کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ اسی سلسلے میں بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں تک نئی آئل پائپ لائنز بچھانے کی تجاویز بھی زیرِ غور ہیں تاکہ توانائی کی ترسیل کا نظام مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
تاہم اس مجوزہ منصوبے کو لے کر اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ برٹش کولمبیا کی صوبائی حکومت نے نئی پائپ لائن اسکیم پر خدشات ظاہر کیے ہیں۔ پریمیئر ڈیوڈ ایبی کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں اس نوعیت کے منصوبوں سے ماحولیات کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود ہے اور سمندری و ساحلی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ترقیاتی سرگرمیوں کی مخالف نہیں، لیکن کسی بھی بڑے منصوبے پر عمل درآمد سے پہلے ماحولیاتی تحفظ، مقامی آبادی کی رائے اور طویل مدتی اثرات کا مکمل جائزہ لینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق پائیدار ترقی کے لیے ذمہ دارانہ حکمتِ عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
اس معاملے نے کینیڈا کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان پالیسی اختلافات کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ وفاقی حکومت جہاں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری اور برآمدات بڑھانے کی حامی ہے، وہیں بعض صوبے ماحولیات اور مقامی مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
ان مختلف نقطۂ نظر کی وجہ سے کینیڈا میں توانائی پالیسی کے مستقبل پر ایک اہم قومی بحث شروع ہو گئی ہے، جس میں معاشی ترقی، توانائی کے تحفظ اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم کرنے کے مختلف پہلو زیرِ غور ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

