پاکستان

پاکستان کی ریفائنریوں کا پٹرول قیمتوں کے نئے قواعد پر انتباہ

📷 StudioX News graphic. Not a photograph of the event.
Harnaik Singh Rathor
By Harnaik Singh Rathor
Founder & Editor-in-Chief, StudioX News

انڈپینڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آئل ریفائنریوں نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں کے تعین کے قواعد میں حالیہ تبدیلی ملک کے ریفائننگ سیکٹر کو جدید بنانے کے چھ ارب ڈالر کے منصوبے کے لیے خطرہ ہے۔

StudioX News: پاکستان کی ریفائنریوں کا پٹرول قیمتوں کے نئے قواعد پر انتباہ
پاکستان کی ریفائنریوں کا پٹرول قیمتوں کے نئے قواعد پر انتباہ 6

ریفائنریوں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے سرمایہ کاری متاثر ہو سکتی ہے اور ان کے لیے کام جاری رکھنا مالی طور پر ناقابلِ عمل ہو سکتا ہے۔

حکومتی ہدایت اور مالی بوجھ

وزارتِ پیٹرولیم نے جمعے کو ریفائنریوں کو ہدایت دی کہ وہ سات مارچ کے معیار پر مبنی فارمولے کے تحت قیمتوں کا فرق حکومت کے حوالے کریں۔

صنعتی شعبے کے تخمینوں کے مطابق اس اقدام سے مقامی طور پر تیار ہونے والے پٹرول پر فی لیٹر 49 روپے (0.18 ڈالر) تک کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

ریفائنریوں کے مطابق یہ فیصلہ 30 اکتوبر کو متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بغیر کیا گیا، جو براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت حکومت کی یقین دہانیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس وقت کمپنیاں بڑے جدیدکاری منصوبوں کے لیے مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہی ہیں۔

اٹک ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو عادل خٹک نے عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریفائنریاں اس وقت مقامی اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ وسیع مذاکرات کر رہی ہیں، اور یہ فیصلہ اس نازک وقت پر نامناسب ہے۔

عارضی انتظام کی تفصیلات

ہدایت نامے کی نقل، جو عرب نیوز نے دیکھی، کے مطابق چھ ریفائنریوں کو نظرثانی شدہ فارمولے پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں پارکو، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، سنرجیکو پی کے اور اینار شامل ہیں۔

حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والے تعطل کے باعث بڑھتی قیمتوں سے صارفین کو تحفظ دینا ہے۔

عارضی انتظام کے تحت عوام کے لیے پٹرول کی قیمتیں پاکستان سٹیٹ آئل کی حالیہ درآمدات کی اصل لاگت کے مطابق مقرر ہوں گی۔ تاہم ریفائنریوں کو اپنی فروخت کی قیمتوں کا حساب سات مارچ کو جنگ سے پہلے نافذ پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کی شرحوں کی بنیاد پر لگانا ہوگا۔

اس انتظام میں قیمتوں کا جو مثبت فرق ہوگا، وہ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے حکومت کو دینا ہوگا، یعنی اس کا مالی بوجھ ریفائنریاں خود اٹھائیں گی۔ صنعتی عہدے داروں کا تخمینہ ہے کہ بنیادی قیمتوں میں ردوبدل سے فی لیٹر تقریباً 35 روپے (0.13 ڈالر) کا نقصان ہوگا، جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی رقوم منتقل ہونے سے مزید 14 روپے (0.051 ڈالر) کا نقصان متوقع ہے۔

پالیسی کے وعدے اور ماضی کی تاخیر

چار ریفائنریوں نے 24 ستمبر کو اپ گریڈیشن کے معاہدوں پر دستخط کیے تھے، جبکہ پارکو نے تاحال یہ معاہدہ نہیں کیا۔

خٹک کے مطابق ماضی میں ضابطہ جاتی تاخیر سے قومی معیشت کو سالانہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ پالیسی میں لازم قرار دیا گیا ہے کہ 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی رقم ریفائنریوں کے مخصوص اکاؤنٹس میں جمع ہو، اور اس رقم کو دوسری جگہ منتقل کرنا اس شق کے مقصد کو ناکام بناتا ہے۔

ریفائننگ کے عہدے داروں کے مطابق کمپنیاں پہلے بھی قیمتوں میں استحکام کے لیے ہائی سپیڈ ڈیزل کے منافع کی حد دو بار مقرر کرنے پر رضامند ہو چکی ہیں، پہلے 41.89 ڈالر اور بعد ازاں 38 ڈالر فی بیرل۔ نیشنل ریفائنری لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹیو اسد حسن کے مطابق اس رضامندی سے ریفائنریاں 100 ارب روپے (361 ملین ڈالر) سے زائد کا حصہ ڈال چکی ہیں۔

صنعت کا مطالبہ اور حکومت کا مؤقف

سنرجیکو پی کے کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے کہا کہ اگر ان فیصلوں پر نظرثانی نہ ہوئی تو ریفائنریاں پیداوار محدود کرنے یا بند کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں، جس سے درآمدی پیٹرولیم مصنوعات پر ملک کا انحصار مزید بڑھے گا۔ انہوں نے سرمایہ کاری لانے کی کوششوں اور ایسے اقدامات کے درمیان تضاد کی نشاندہی بھی کی۔

اسد حسن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عوام کے لیے قیمتیں کم رکھنے کی خواہش قابلِ فہم ہے، تاہم انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ ریفائنریوں سے موجودہ جنگ کے بعد کے پریمیم پر خام تیل خریدنے اور جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر پیٹرول بیچنے کی توقع رکھی جا رہی ہے۔

صنعتی عہدے داروں نے حکومت سے فوری مشاورت، ٹیرف کے ذریعے تحفظ کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ کیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن اور وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔ حکام اس سے پہلے قیمتوں میں حکومتی مداخلت کو منافع خوری روکنے کے لیے ضروری قرار دے چکے ہیں۔

Source: Independent Urdu

Avatar photo

Harnaik Singh Rathor is the Founder, Publisher, and Editor-in-Chief of StudioX News Canada, Canada's multilingual digital news network serving multilingual diaspora communities across Canada. With a background in media production, public relations, and multicultural communications, he founded StudioX Film and TV Corporation to bridge the gap between mainstream Canadian media and the country's diverse immigrant communities. He is a member of the Canadian Association of Journalists (CAJ), RTDNA Canada, CPRS Vancouver, NEPMCC, and the Canadian Freelance Union (Unifor). Based in Surrey, British Columbia. | LinkedIn: https://www.linkedin.com/in/harnaiksinghrathor/ | Muck Rack: https://muckrack.com/harnaiksinghrathor | Email: editor@studioxnews.ca

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories