دنیا

تہران میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ، کروڑوں سوگواروں کی شرکت

📷 File Photo

تہران میں تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ، عوام نے اپنے رہنما کو اشک بار آنکھوں سے رخصت کیا، ایران سوگ میں ڈوب گیا

تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ انتہائی عقیدت، احترام اور رقت آمیز ماحول میں ادا کر دی گئی۔ نمازِ جنازہ میں ایران کے مختلف شہروں سے آنے والے کروڑوں افراد نے شرکت کی، جس کے باعث تہران کی سڑکیں، شاہراہیں اور مرکزی چوراہے انسانوں کے سمندر کا منظر پیش کرتے رہے۔ یہ جنازہ ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار کیا جا رہا ہے، جہاں ہر طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے محبوب رہنما کو آخری الوداع کہنے کے لیے موجود تھے۔

آیت اللہ جعفر سبحانی نے نمازِ جنازہ پڑھائی

ایرانی میڈیا کے مطابق نمازِ جنازہ معروف مذہبی رہنما آیت اللہ جعفر سبحانی نے پڑھائی۔ اس موقع پر ایران کے صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، عدلیہ، مسلح افواج، پاسدارانِ انقلاب، کابینہ کے اراکین، اعلیٰ سرکاری حکام، مذہبی شخصیات اور غیر ملکی وفود نے بھی شرکت کی۔

نمازِ جنازہ کے دوران پورا ماحول انتہائی غمزدہ تھا۔ شرکاء کی بڑی تعداد اشک بار آنکھوں کے ساتھ دعائیں مانگتی رہی، جبکہ کئی مقامات پر لوگوں نے سپریم لیڈر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور ان کے حق میں نعرے بھی لگائے۔

کروڑوں افراد کی آمد سے تہران کی سڑکیں بھر گئیں

جنازے میں شرکت کے لیے ایران کے مختلف صوبوں، شہروں اور دیہی علاقوں سے لوگ خصوصی بسوں، ٹرینوں اور دیگر ذرائع سے تہران پہنچے۔ حکام کے مطابق عوام کی غیر معمولی تعداد کے باعث دارالحکومت کی بیشتر شاہراہیں کئی گھنٹوں تک بند رہیں، جبکہ شہری ٹرانسپورٹ کو بھی خصوصی انتظامات کے تحت چلایا گیا۔

عینی شاہدین کے مطابق صبح سویرے ہی لوگ جنازے کے مقام پر پہنچنا شروع ہوگئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد کا ہجوم جمع ہو گیا، جس سے پورا علاقہ انسانی سمندر میں تبدیل ہوگیا۔

غیر ملکی وفود کی بھی شرکت

نمازِ جنازہ میں مختلف ممالک کے سرکاری نمائندوں، سفارت کاروں اور مذہبی شخصیات نے بھی شرکت کی اور ایرانی قیادت سے تعزیت کا اظہار کیا۔ متعدد ممالک کی جانب سے تعزیتی پیغامات بھی جاری کیے گئے، جن میں مرحوم کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

ایرانی حکام نے غیر ملکی مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل گھڑی میں عالمی برادری کی ہمدردی اور یکجہتی قابلِ قدر ہے۔

سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات

اتنے بڑے عوامی اجتماع کے پیش نظر تہران میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پولیس، پاسدارانِ انقلاب، بسیج فورس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات رہے، جبکہ فضائی نگرانی کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا۔

طبی امداد کے لیے درجنوں ایمبولینسیں، موبائل میڈیکل یونٹس اور ریسکیو ٹیمیں مختلف مقامات پر موجود رہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔

ایرانی قیادت کا خراجِ عقیدت

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے پوری زندگی ملک، قوم اور اسلامی اقدار کے تحفظ کے لیے وقف رکھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت، خدمات اور قربانیوں کو ایرانی قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ سپریم لیڈر کی جدوجہد ایران کی تاریخ کا روشن باب ہے، جس نے ملک کو مختلف چیلنجز کے دوران مضبوط قیادت فراہم کی۔

ملک بھر میں سوگ کی فضا

نمازِ جنازہ کے بعد ایران بھر میں مساجد، امام بارگاہوں اور عوامی مقامات پر خصوصی دعائیہ اجتماعات کا سلسلہ جاری رہا۔ مختلف شہروں میں شہریوں نے مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا، جبکہ سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رکھا گیا۔

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق عوام کی غیر معمولی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو ایرانی عوام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل تھی۔ کروڑوں افراد کی موجودگی نے نہ صرف ان سے عوامی وابستگی کا اظہار کیا بلکہ قومی اتحاد اور یکجہتی کا بھی مظاہرہ کیا، جسے ایران کی حالیہ تاریخ کا ایک اہم اور یادگار لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories