پاکستان

قطر سے پاکستان آنے والے ایل این جی ٹینکر ‘المایدہ’ پر حملہ

📷 StudioX News graphic. Not a photograph of the event.
StudioX News اردو ڈیسک
By StudioX News اردو ڈیسک
AI-assisted from verified sources

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق خلیج فارس میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) لے جانے والے ٹینکر ‘المایدہ’ کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی قطر اور سعودی عرب سمیت کئی خلیجی ممالک نے مذمت کی ہے۔ امریکی جریدے بلومبرگ کے ذرائع کے مطابق اس ٹینکر کی منزل پاکستان تھی۔

StudioX News: قطر سے پاکستان آنے والے ایل این جی ٹینکر 'المایدہ' پر حملہ
قطر سے پاکستان آنے والے ایل این جی ٹینکر 'المایدہ' پر حملہ 6

قطر کا بیان اور تحقیقات

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ہفتے کو جاری بیان کے مطابق قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی (ناقلات) کی ملکیت یہ ٹینکر جمعے کی شام خلیج فارس میں پروجیکٹائلز (نامعلوم اشیا) کی زد میں آیا۔ قطر نے تاحال کسی ملک پر اس حملے کا الزام عائد نہیں کیا۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ عالمی توانائی کی سپلائی اور بحری سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ قطر بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے اثاثوں، جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔ متعلقہ حکام نے واقعے کی وجوہات اور اس میں ملوث عناصر کی شناخت کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

کمپنی کے مطابق جہاز کے عملے کا کوئی رکن زخمی نہیں ہوا اور ماحولیات پر بھی کوئی اثر نہیں پڑا۔ جہاز محفوظ حالت میں ہے اور آپریشنل ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے بھی ٹینکر کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ خلیج تعاون کونسل، متحدہ عرب امارات، بحرین اور یمن میں بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔

پاکستان سے تعلق اور ایران سے رابطہ

شپ ٹریکنگ پلیٹ فارم میرین ٹریفک کے مطابق ‘المایدہ’ 30 اکتوبر کو قطر کے راس لفان گیس پروسیسنگ مرکز سے روانہ ہوا اور دو نومبر کی دوپہر کراچی کی پورٹ قاسم پہنچنا تھا، مگر یہ اب بھی خلیج فارس میں موجود ہے۔

بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان نے جہاز کو محفوظ راستہ دینے کے لیے ایران سے ‘گرین سگنل’ حاصل کیا تھا۔ ذرائع کے مطابق حملے سے چند گھنٹے قبل ایرانی حکام نے جہاز کے گزرنے کی منظوری دی تھی۔ تاہم فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ ٹینکر پر فائرنگ کیوں کی گئی۔ پاکستان اور ایران کی جانب سے اس معاملے پر تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

جہاز کے عملے میں 25 ارکان شامل تھے، جن میں چھ انڈین شہری بھی شامل تھے۔ انڈیا کے وزیرِ جہاز رانی نے کہا ہے کہ تمام ارکان محفوظ ہیں۔

پاکستان کی گیس سپلائی پر اثرات

بلومبرگ کے مطابق پاکستان قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدے کے تحت روزانہ تقریباً 600 ملین کیوبک فٹ آر ایل این جی درآمد کرتا ہے، اور ایران جنگ کی وجہ سے اس سپلائی میں خلل پڑتا رہا ہے۔ پاکستان شپس ایجنٹس ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین محمد راجپر کے مطابق دسمبر اور جنوری میں معاہدے کے تحت 20 کارگو آنے تھے۔

راجپر کے مطابق پاکستان سپاٹ مارکیٹ سے 10 کارگو خریدنا چاہتا ہے، مگر ان کی قیمت تین گنا زیادہ ہے، جو زرِمبادلہ ذخائر پر اثر ڈالے گی اور صارفین کے لیے گیس مزید مہنگی ہو گی۔ بلومبرگ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ڈیزل، پٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

وفاقی وزیرِ پیٹرولیم نے اتوار کو لاہور میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ حکومت موسمِ سرما میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے انتظامات کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دسمبر اور جنوری میں گیس کی طلب پورا کرنے کے لیے سمندری راستوں سے ایل پی جی درآمد کرنے کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

ماخذ: BBC News Urdu

Avatar of StudioX News اردو ڈیسک

Articles from this desk are produced with AI assistance from verified, attributed sources and published under StudioX News editorial standards. To report an error: studioxnews.ca/complaints/

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories