پاکستان

پاکستان: پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پانچ سال کی حد ختم

📷 StudioX News graphic. Not a photograph of the event.
Harnaik Singh Rathor
By Harnaik Singh Rathor
Founder & Editor-in-Chief, StudioX News

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں وفاقی حکومت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر پانچ سال کی حد ختم کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیاں بھی بیرونِ ملک سے درآمد کی جا سکیں گی۔

StudioX News: پاکستان: پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پانچ سال کی حد ختم
پاکستان: پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پانچ سال کی حد ختم 6

وزارتِ تجارت کے وضاحتی اعلامیے کے مطابق یہ پابندی 30 اکتوبر 2026 سے ختم ہو گئی ہے۔ پہلے زیادہ سے زیادہ پانچ سال پرانی گاڑی ہی درآمد کی جا سکتی تھی۔

نئی پالیسی میں کیا تبدیل ہوا ہے؟

وزارتِ تجارت کا کہنا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد درآمدی پالیسی کی شرائط سے مشروط ہو گی۔ اس کے ساتھ ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد بھی لازمی ہو گا۔

وزیرِاعظم شہباز شریف ملک کی نئی آٹو پالیسی کی منظوری دے چکے ہیں، جسے حتمی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جانا ہے۔ اس پالیسی میں آٹو انڈسٹری میں مسابقت بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور گاڑیوں کی برآمدی صلاحیت بڑھانے سمیت مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

آل پاکستان موٹر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایچ ایم شہزاد کے مطابق 2025 میں حکومت نے بیگیج سکیم کے تحت گاڑیوں کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی، جب کہ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ سکیم برقرار رکھی گئی تھی۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں مقیم بیشتر پاکستانیوں کے ملک میں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں، جب کہ پاکستان میں رائٹ ہینڈ ڈرائیو گاڑیاں رائج ہیں۔

مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی گئی تھی، مگر سخت شرائط کی وجہ سے گذشتہ ڈیڑھ سال کے دوران عملی طور پر کوئی گاڑی درآمد نہیں ہو سکی۔

نئے نوٹیفکیشن میں بعض شرائط میں نرمی کی گئی ہے۔ گفٹ سکیم کے بارے میں ایک شرط برقرار رکھی گئی ہے: پاکستان پہنچنے کے بعد اس سکیم کے تحت آنے والی گاڑی ایک سال تک کسی دوسرے شخص کے نام منتقل نہیں کی جا سکے گی۔ اس شعبے سے وابستہ افراد نے حکومت سے اس پالیسی پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

کیا گاڑیاں سستی ہوں گی؟

آل پاکستان کار ڈیلرز اینڈ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین کامران خان کے مطابق امپورٹرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دس سال پرانی گاڑی درآمد کریں، تاکہ پری انسپکشن اور دیگر شرائط آسانی سے پوری ہو سکیں۔

ایچ ایم شہزاد کے مطابق درآمد ہونے والی گاڑی حادثے سے متاثرہ یا چوری شدہ نہیں ہونی چاہیے۔ درآمد سے پہلے اور پاکستان پہنچنے کے بعد دوبارہ معائنہ بھی لازمی ہو گا۔ کمرشل امپورٹ کرنے والے اداروں کے لیے انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے ساتھ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ میں رجسٹریشن بھی ضروری ہو گی۔

ایچ ایم شہزاد نے فوری طور پر قیمتیں کم ہونے کے امکان کو مسترد کیا ہے۔ ان کے مطابق کمرشل امپورٹ پر ریگولیٹری ڈیوٹی 50 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر گفٹ سکیم میں جو ڈیوٹی 20 فیصد ہے، وہ کمرشل امپورٹ میں 50 فیصد ہو گی۔ اس شرح میں ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی، جس سے آئندہ پانچ سال میں قیمتوں میں کمی کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

کامران خان کے مطابق صارفین کو اس سے فائدہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بننے والی ایک چھوٹی گاڑی کی قیمت میں صارفین کو دس سال پرانی، زیادہ آرام دہ اور بڑے انجن والی درآمد شدہ گاڑی مل سکتی ہے۔

ماہرین کے تحفظات

آٹو سیکٹر کے ماہر مشہود علی خان کے مطابق حکومت کا خیال ہے کہ مسابقت بڑھنے سے صارفین کو مناسب قیمت پر گاڑیاں ملیں گی، تاہم اس پالیسی کے ممکنہ اثرات پر تحفظات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

ان کے مطابق پاکستان میں پہلے ہی گاڑیوں کے متعدد ماڈلز دستیاب ہیں اور کئی کمپنیاں مقامی سطح پر گاڑیاں اسمبل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی میں مارکیٹ کی گنجائش یا درآمدی گاڑیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا واضح طریقہ کار نظر نہیں آتا، جس سے گاڑیوں کی ضرورت سے زیادہ فراہمی کا خدشہ ہے۔

مشہود علی خان نے مزید کہا کہ بڑی تعداد میں مختلف ماڈلز آنے کی صورت میں مستقبل میں سپیئر پارٹس کی دستیابی اور مرمت ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق بعض گاڑیوں کے پرزے مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہوں گے، جب کہ کچھ کے پرزے انتہائی مہنگے ملنے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کے مطابق حکومت کو صرف درآمدات بڑھانے کے بجائے ملکی آٹو انڈسٹری کی ترقی پر بھی توجہ دینی چاہیے، تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں اور صارفین کو بہتر اور سستی گاڑیاں مل سکیں۔

Source: BBC News Urdu

Avatar photo

Harnaik Singh Rathor is the Founder, Publisher, and Editor-in-Chief of StudioX News Canada, Canada's multilingual digital news network serving multilingual diaspora communities across Canada. With a background in media production, public relations, and multicultural communications, he founded StudioX Film and TV Corporation to bridge the gap between mainstream Canadian media and the country's diverse immigrant communities. He is a member of the Canadian Association of Journalists (CAJ), RTDNA Canada, CPRS Vancouver, NEPMCC, and the Canadian Freelance Union (Unifor). Based in Surrey, British Columbia. | LinkedIn: https://www.linkedin.com/in/harnaiksinghrathor/ | Muck Rack: https://muckrack.com/harnaiksinghrathor | Email: editor@studioxnews.ca

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories