کھیل

فخر زمان: بڑے مقابلوں میں ٹیم کا بھروسہ

📷 StudioX News graphic. Not a photograph of the event.
Harnaik Singh Rathor
By Harnaik Singh Rathor
Founder & Editor-in-Chief, StudioX News

ایکسپریس ٹریبیون اسپورٹس کے کالم نگار سلیم خالق کی رائے کے مطابق بلے باز فخر زمان ایسے کھلاڑی ہیں جو بڑے مقابلوں میں ٹیم کو جیت کی طرف لے جاتے ہیں۔ یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے۔

StudioX News: فخر زمان: بڑے مقابلوں میں ٹیم کا بھروسہ
فخر زمان: بڑے مقابلوں میں ٹیم کا بھروسہ 6

کالم کے مطابق سری لنکا کا مجموعی اسکور 325 رنز تک پہنچا تو پاکستانی ڈریسنگ روم میں عام تاثر یہ تھا کہ اتنا بڑا ہدف حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ مگر فخر زمان بالکل پرسکون دکھائی دیے۔ جب وہ کریز پر آئے تو اسکور 14 رنز پر دو وکٹ تھا، اور بعد ازاں بابر اعظم بھی آؤٹ ہو گئے۔ اس کے باوجود فخر نے نوجوان سعد بیگ کے ساتھ اہم شراکت داری قائم کی، جس نے پاکستان کو جیت کی راہ پر ڈال دیا۔

ٹیم کے مفاد کو اولین ترجیح

کالم نگار کے مطابق فخر زمان نے کبھی اپنی ذاتی کارکردگی کو ٹیم کے مفاد سے بالاتر نہیں رکھا۔ ان کی کوئی پی آر ٹیم نہیں، انہیں کنگ، چیتا یا شیر جیسے القاب نہیں دیے گئے، اور نہ ہی ان کے گرد سوشل میڈیا کے بڑے حلقے یا سابق کرکٹرز کی مسلسل تعریفیں نظر آتی ہیں۔ وہ سادہ مزاج اور عام زندگی گزارنے والے انسان ہیں اور خود کو کبھی سپر اسٹار نہیں سمجھتے۔

کالم نگار کے مطابق ان کے کیریئر کے اعداد و شمار شاید ان کی صلاحیت کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، لیکن میچ جتوانے والے کھلاڑی کے طور پر ان کی حیثیت میں کوئی شک نہیں۔ جب کئی کھلاڑی ٹیم کو مشکل میں دیکھتے ہیں تو یا چند رنز بنا کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا نوجوانوں کو آگے کر کے خود کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فخر زمان نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

نوجوان کھلاڑیوں کی رہنمائی

کالم میں لکھا گیا ہے کہ کئی کرکٹرز مستحکم مقام حاصل کرنے کے بعد بھی نوجوان کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی سے ہچکچاتے ہیں، مگر فخر زمان اس کے برعکس ہیں۔ نوجوان کھلاڑی اکثر ان کے مشوروں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ کالم نگار کے مطابق فخر نے صاحبزادہ فرحان کی کارکردگی سے متاثر ہو کر فیس بک کے ذریعے ان سے رابطہ کیا اور انہیں اپنی ڈومیسٹک ٹیم کی طرف سے کھیلنے کی دعوت دی۔ وہ لاہور قلندرز کے ساتھ کئی برس گزار چکے ہیں اور اس فرنچائز کو اپنا خاندان سمجھتے ہیں۔

حالیہ ٹرائی اینگولر سیریز میں فخر زمان فائنل سے پہلے زیادہ اثر نہیں چھوڑ سکے تھے اور کچھ حلقوں نے انہیں ٹیم سے باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم ٹیم انتظامیہ نے ان کا ساتھ دیا اور فخر نے سنچری بنا کر پاکستان کو فتح دلائی۔ کالم نگار کے مطابق بڑے مقابلوں کے دباؤ میں بھی فخر کی کارکردگی اکثر مزید نکھر جاتی ہے۔

کالم نگار نے احمد شہزاد کے ایک تبصرے پر بھی بات کی، جس میں فخر کو ملنے والے مواقع کا ذکر تھا۔ ان کے نزدیک ایسے تبصرے حسد کی عکاسی کرتے ہیں۔ کالم نگار کا کہنا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی چار میچوں میں کم از کم ایک میچ جتوانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اسے ٹیم سے نہیں نکالنا چاہیے۔

ورلڈ کپ اور آگے کا راستہ

کالم نگار کے مطابق اگلا بڑا عالمی ایونٹ اگلے سال افریقہ میں ہوگا، جہاں فخر زمان بہت مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی ہمیشہ ٹیم شیٹ پر فخر کا نام سب سے پہلے لکھتے ہیں۔ فٹنس کے خدشات کم ہونے کے بعد کالم نگار کے خیال میں وہ مزید دو سے تین سال ملک کی نمائندگی کر سکتے ہیں، اس لیے زمبابوے اور آئرلینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف انہیں آرام دیا جانا چاہیے۔

کالم نگار نے بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا اور سلمان علی آغا سے مزید مستقل مزاجی کی توقع ظاہر کی۔ ان کے مطابق پی سی بی کو شاہین شاہ آفریدی کو ورلڈ کپ تک کپتان مقرر کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔

ماخذ: Express Tribune Sports

Avatar photo

Harnaik Singh Rathor is the Founder, Publisher, and Editor-in-Chief of StudioX News Canada, Canada's multilingual digital news network serving multilingual diaspora communities across Canada. With a background in media production, public relations, and multicultural communications, he founded StudioX Film and TV Corporation to bridge the gap between mainstream Canadian media and the country's diverse immigrant communities. He is a member of the Canadian Association of Journalists (CAJ), RTDNA Canada, CPRS Vancouver, NEPMCC, and the Canadian Freelance Union (Unifor). Based in Surrey, British Columbia. | LinkedIn: https://www.linkedin.com/in/harnaiksinghrathor/ | Muck Rack: https://muckrack.com/harnaiksinghrathor | Email: editor@studioxnews.ca

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories