امیگریشن

کینیڈا میں اسٹڈی پرمٹ نظام کے غلط استعمال کا انکشاف، بعض بھارتی طلبہ پر فرضی شادیوں کے ذریعے ورک پرمٹ حاصل کرنے کا الزام

📷 Study Permit System Misused in Canada; Some Indian Students Accused of Sham Marriages for Work Permits(Instant Image)

کینیڈین امیگریشن اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں بھارتی طلبہ کی تعداد 2 لاکھ 77 ہزار 950 تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 1 لاکھ 88 ہزار 125 رہ گئی، جبکہ 2025 میں مزید گھٹ کر 93 ہزار 840 تک پہنچ گئی۔

اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت کی ایک داخلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بعض بھارتی طلبہ نے کینیڈا میں تعلیم کے دوران اپنے شریک حیات کے لیے ورک پرمٹ حاصل کرنے کی غرض سے فرضی یا مفاد پر مبنی شادیاں (Marriages of Convenience) کیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے 2024 اور 2025 میں امیگریشن قوانین میں سخت تبدیلیاں کر کے اس مبینہ خامی کو بند کر دیا، تاہم اس کے بعد بھارتی طلبہ کی درخواستوں میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔

کینیڈین اخبارات دی گلوب اینڈ میل اور دی ٹورنٹو سن کی رپورٹس کے مطابق یہ معلومات کینیڈا کی ہائی کمیشن، نئی دہلی کی فرسٹ سیکریٹری (امیگریشن) ہان ڈوان کی جانب سے مارچ 2025 میں امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) کے اعلیٰ حکام کو بھیجے گئے ایک داخلی ای میل میں سامنے آئیں۔

فرضی شادیوں کے ذریعے ورک پرمٹ حاصل کرنے کا الزام

رپورٹ کے مطابق بعض بھارتی طلبہ نے کینیڈا میں تعلیم کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسی شادیاں کیں جن کا مقصد صرف شریک حیات کے لیے اسپاؤزل اوپن ورک پرمٹ (SOWP) حاصل کرنا تھا۔

ای میل میں کہا گیا کہ کینیڈا میں تعلیم اور رہائش کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے بعض درخواست گزاروں نے مالی معاونت حاصل کرنے کے لیے ایسی شادیوں کا سہارا لیا، جن کے بدلے شریک حیات کو اوپن ورک پرمٹ حاصل ہو جاتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق اس قسم کی سہولتوں کی تشہیر بھارت میں بعض اخبارات اور ڈیٹنگ ایپس کے ذریعے بھی کی جاتی رہی، جس سے امیگریشن حکام میں تشویش پیدا ہوئی۔

اسپاؤزل اوپن ورک پرمٹ کیا ہے؟

اسپاؤزل اوپن ورک پرمٹ پروگرام کا مقصد بین الاقوامی طلبہ کے شریک حیات کو کینیڈا میں کسی بھی آجر کے ساتھ ملازمت کی اجازت دینا تھا تاکہ وہ تعلیم کے دوران اپنے خاندان کے اخراجات پورے کر سکیں۔

تاہم کینیڈا کی حکومت نے 2024 میں اس پروگرام کے قواعد سخت کرتے ہوئے زیادہ تر انڈرگریجویٹ طلبہ کے شریک حیات کو اس سہولت سے محروم کر دیا۔

بعد ازاں جنوری 2025 میں مزید پابندیاں عائد کی گئیں، جن کے تحت یہ سہولت بنیادی طور پر صرف پی ایچ ڈی، مخصوص پیشہ ورانہ ڈگریوں یا کم از کم سولہ ماہ کے پوسٹ گریجویٹ پروگراموں میں زیر تعلیم طلبہ کے شریک حیات تک محدود کر دی گئی۔

امیگریشن وکیل کا ردعمل

وینکوور سے تعلق رکھنے والے امیگریشن وکیل رچرڈ کرلینڈ نے کہا کہ جب اسٹڈی پرمٹ کو روزگار اور مستقل رہائش کے راستے کے طور پر پیش کیا جانے لگا تو بعض منظم گروہوں نے اس نظام کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق بعض بیرون ملک ایجنٹس طلبہ کو یہ یقین دلاتے تھے کہ اگر وہ اسٹڈی پرمٹ حاصل کر لیں تو بعد میں ورک پرمٹ اور پھر مستقل رہائش کا راستہ خود بخود ہموار ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندانوں نے اپنے بچوں کو کینیڈا بھیجنے کے لیے اپنی جمع پونجی خرچ کر دی، حتیٰ کہ بعض نے اپنی جائیدادیں بھی فروخت کر دیں، لیکن بعد میں امیگریشن قوانین کی تبدیلی نے ان کی توقعات کو متاثر کیا۔

بھارتی درخواستوں میں نمایاں کمی

رپورٹ کے مطابق نئی پابندیوں کے بعد نہ صرف بھارتی طلبہ کی درخواستوں کی تعداد کم ہوئی بلکہ درخواست گزاروں کے معیار میں بھی تبدیلی دیکھی گئی۔

ہان ڈوان نے اپنے ای میل میں لکھا کہ طلبہ کی تعداد میں کمی کے ساتھ ساتھ درخواست گزاروں کے مجموعی معیار میں بھی فرق آیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پہلے بعض طلبہ سرکاری کالج میں داخلہ لے کر بعد میں کم معیار کے نجی اداروں میں منتقل ہو جاتے تھے، لیکن نئے قواعد کے بعد اس رجحان میں بھی کمی آئی ہے۔

انگریزی زبان کی مہارت پر بھی سوالات

داخلی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بعض درخواست گزاروں کے پاس اگرچہ زبان کے امتحانات کے سرٹیفکیٹ موجود تھے، لیکن عملی طور پر ان کی انگریزی زبان پر گرفت مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خصوصی جانچ کے دوران بعض امیدواروں کی زبان کی صلاحیت اور جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹس کے درمیان نمایاں فرق دیکھا گیا، جس نے امیگریشن حکام کی تشویش میں اضافہ کیا۔

طلبہ کا رخ دیگر ممالک کی جانب

رپورٹ کے مطابق شریک حیات کے ورک پرمٹ پر پابندیوں کے بعد بڑی تعداد میں بھارتی طلبہ نے کینیڈا کے بجائے ایسے ممالک کا انتخاب کرنا شروع کر دیا جہاں خاندان کے افراد کے لیے نسبتاً آسان ویزا سہولتیں موجود ہیں۔

ای میل میں جرمنی، سویڈن اور فن لینڈ کو ان ممالک میں شامل کیا گیا جہاں بھارتی طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا گیا۔

اسی طرح آئرلینڈ، فرانس اور اٹلی میں بھی طلبہ کی تعداد بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جبکہ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور برطانیہ میں بھی شریک حیات کے ویزا قوانین سخت ہونے کے بعد بھارتی درخواستوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار میں بڑی گراوٹ

کینیڈین امیگریشن اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں بھارتی طلبہ کی تعداد 2 لاکھ 77 ہزار 950 تھی، جو 2024 میں کم ہو کر 1 لاکھ 88 ہزار 125 رہ گئی، جبکہ 2025 میں مزید گھٹ کر 93 ہزار 840 تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی طلبہ کی تعداد میں یہ کمی کینیڈا کے متعدد کالجوں اور یونیورسٹیوں کی آمدنی پر بھی اثر انداز ہوئی ہے، کیونکہ بین الاقوامی طلبہ ان اداروں کے لیے مالی وسائل کا ایک اہم ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری جانب مائیگرنٹ ورکرز الائنس فار چینج کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید حسان کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تعداد میں کمی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ایسے ممالک کا انتخاب کر رہے ہیں جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ جا سکیں۔ ان کے مطابق امیگریشن قوانین میں بار بار تبدیلی بھی طلبہ کے اعتماد کو متاثر کر رہی ہے، کیونکہ بہت سے افراد ایک قانون کے تحت کینیڈا پہنچتے ہیں لیکن تعلیم کے دوران ہی قواعد تبدیل ہو جاتے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories