دنیا

امریکی فوج کا ایران پر حملوں کا دعویٰ، مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات

📷 U.S. Claims Strikes on Iran; Explosions Reported in Several Cities(Instant Image)

دوسری جانب ایرانی حکام نے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں

سینٹکام کا دعویٰ، ایرانی فوجی تنصیبات، فضائی دفاع اور میزائل مراکز کو نشانہ بنایا گیا

تہران / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف مسلسل نویں رات بھی فضائی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں اور آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا اور آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی تصدیق تو کی ہے، تاہم نقصانات یا جانی نقصان کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

تبریز میں متعدد دھماکے، آگ بھڑکنے کی ویڈیوز منظر عام پر

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق شمال مغربی شہر تبریز کے مغربی حصے میں کم از کم تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ دھماکوں کے بعد مختلف مقامات پر آگ بھڑکنے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہیں، جن میں دھوئیں کے بلند بادل واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

اگرچہ مقامی حکام نے واقعے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے اس بارے میں کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا کہ دھماکے کس مقام پر ہوئے یا ان سے کس حد تک نقصان پہنچا۔

میزائل اڈوں کو نشانہ بنانے کا غیر سرکاری دعویٰ

غیر سرکاری ذرائع اور بعض بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تبریز کے قریب واقع ایرانی میزائل اڈوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہی فوجی تنصیبات ماضی میں بھی اسرائیلی اور امریکی کارروائیوں کے دوران ہدف بن چکی ہیں۔

تاہم ایرانی حکومت یا فوج کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

چابہار، کنارک اور بوشہر سے بھی دھماکوں کی اطلاعات

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جنوبی علاقوں چابہار اور کنارک میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ مقامی حکام نے ان واقعات کی ابتدائی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اسی دوران برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ صوبہ بوشہر کے شہر خورموج میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک اہم اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس اطلاع کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

سینٹکام کا بیان، متعدد فوجی اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ

امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے مختلف فوجی مراکز پر کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔

بیان کے مطابق حملوں میں فوجی کمانڈ سینٹرز، فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، بحری تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس، مواصلاتی نیٹ ورکس اور دیگر عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سینٹکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری ملاحوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی سلامتی پر زور

امریکی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

سینٹکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں کا مقصد اس اہم آبی گزرگاہ میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو روکنا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

امریکی افواج ہر ممکن کارروائی کے لیے تیار

بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج صدر اور کمانڈر اِن چیف کی ہدایات کے مطابق اپنے مشن پر پوری توجہ کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

سینٹکام نے واضح کیا کہ تمام فوجی یونٹس مکمل طور پر چوکس ہیں اور کسی بھی نئی صورتحال یا ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔

خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل جاری فوجی کارروائیاں پورے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیاں عالمی توانائی کی منڈی، بحری تجارت اور علاقائی سلامتی کے لیے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ سفارتی کوششوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لانے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories