افغانستان کے خلاف بھارت کی تاریخی فتح، کئی ریکارڈز قائم
چنڈی گڑھ: بھارت نے افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ میں شاندار اور یکطرفہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اننگز اور 300 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کر لی۔ یہ فتح نہ صرف اس میچ کی سب سے بڑی خبر بنی بلکہ بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں رنز کے فرق کے لحاظ سے سب سے بڑی جیت بھی قرار پائی۔ بھارتی ٹیم نے میچ کے تیسرے ہی دن مقابلہ اپنے نام کر لیا اور کھیل کے ہر شعبے میں افغانستان کو مکمل طور پر زیر کر لیا۔
یہ تاریخی مقابلہ چندی گڑھ کے مہاراجہ یادیویندر سنگھ بین الاقوامی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں بھارتی ٹیم نے ابتدا ہی سے اپنی برتری قائم رکھی۔ افغانستان کی ٹیم پہلی اننگز میں بھارتی بولنگ کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکی اور پوری ٹیم محض 152 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ بھارتی گیند بازوں نے نظم و ضبط کے ساتھ بولنگ کرتے ہوئے افغان بلے بازوں کو بڑی شراکت قائم کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔
اس کے جواب میں بھارتی بلے بازوں نے شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے ایک بڑا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا اور افغانستان پر بھاری برتری حاصل کر لی۔ بھارت کی برتری اتنی زیادہ تھی کہ افغان ٹیم کو فالو آن کھیلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ تاہم دوسری اننگز میں بھی افغانستان کی بیٹنگ لائن بھارتی بولرز کے سامنے بے بس دکھائی دی اور پوری ٹیم صرف 112 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ یوں بھارت نے ایک اننگز اور 300 رنز کے واضح فرق سے میچ جیت کر اپنی برتری ثابت کر دی۔
اس کامیابی کے ساتھ بھارت نے اپنی سابقہ سب سے بڑی ٹیسٹ فتح کا ریکارڈ بھی توڑ دیا۔ اس سے قبل بھارت نے 2018 میں ویسٹ انڈیز کو ایک اننگز اور 272 رنز سے شکست دی تھی، جو اس وقت تک اس کی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی تھی۔ اب افغانستان کے خلاف حاصل ہونے والی ایک اننگز اور 300 رنز کی فتح نے اس ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا اور بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر دیا۔
میچ میں نوجوان بائیں ہاتھ کے اسپنر مناو سوتھار نے غیر معمولی بولنگ کا مظاہرہ کیا اور اپنی شاندار کارکردگی سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 33 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ دوسری اننگز میں ایک مزید وکٹ لے کر مجموعی طور پر 7 شکار کیے۔ ان کی بہترین لائن، لینتھ اور گیند کو اسپن کرانے کی صلاحیت نے افغان بلے بازوں کو شدید مشکلات سے دوچار رکھا۔
مناو سوتھار اس کارکردگی کے ساتھ گزشتہ 35 برسوں میں اپنے پہلے ٹیسٹ میچ میں 6 وکٹیں حاصل کرنے والے دوسرے بھارتی بولر بن گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ اعزاز روی چندرن ایشون کے نام تھا، جنہوں نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ اس کے علاوہ سوتھار بھارت کے دسویں ایسے بولر بھی بن گئے ہیں جنہوں نے اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں ایک اننگز میں پانچ یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے پہلی اننگز کے اعداد و شمار 6/33 بھارت کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو میں دوسری بہترین بولنگ کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔ اس فہرست میں سرفہرست سابق اسپنر نریندر ہیروانی ہیں، جنہوں نے 1988 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 61 رنز دے کر 8 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
دوسری جانب بھارتی کپتان شُبھمن گل نے بھی اپنی عمدہ بیٹنگ کے ذریعے کئی اہم سنگ میل عبور کیے۔ انہوں نے بطور کپتان ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کر لیے۔ اب تک وہ بطور کپتان 9 ٹیسٹ میچوں کی 15 اننگز میں 82.76 کی شاندار اوسط سے 1076 رنز بنا چکے ہیں، جن میں 6 سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ان کی مسلسل شاندار کارکردگی نے انہیں موجودہ دور کے کامیاب ٹیسٹ کپتانوں میں نمایاں مقام دلا دیا ہے۔
شماریاتی اعتبار سے شُبھمن گل اب ان بھارتی کپتانوں کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جنہوں نے بطور کپتان ایک ہزار سے زائد ٹیسٹ رنز اسکور کیے ہیں، جبکہ اوسط کے اعتبار سے وہ اس فہرست میں سرفہرست ہیں۔ عالمی سطح پر اس معاملے میں ان سے بہتر اوسط صرف آسٹریلیا کے عظیم بلے باز اور سابق کپتان ڈان بریڈمین کی ہے، جنہیں ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین بلے باز سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ شُبھمن گل کے ٹیسٹ کیریئر کی گیارہویں سنچری بھی ثابت ہوئی، جس سے ان کی شاندار فارم کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کامیابی صرف ایک بڑی فتح نہیں بلکہ بھارتی ٹیم کے مضبوط بینچ اسٹرینتھ، نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیت اور متوازن ٹیم کمبی نیشن کا بھی واضح ثبوت ہے۔ ان کے مطابق مناو سوتھار جیسے نئے کھلاڑیوں کی غیر معمولی کارکردگی مستقبل کے لیے انتہائی حوصلہ افزا ہے، جبکہ شُبھمن گل کی کامیاب قیادت اور مسلسل رنز بنانے کی صلاحیت بھارتی ٹیم کو مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر نوجوان کھلاڑی اسی تسلسل کے ساتھ عمدہ کارکردگی دکھاتے رہے تو آنے والے برسوں میں بھارت عالمی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی برتری مزید مستحکم کر سکتا ہے۔ یہ تاریخی فتح نہ صرف بھارتی کرکٹ کے لیے یادگار ثابت ہوگی بلکہ ٹیم کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ کرے گی۔
