دنیا

دہلی میں سی جے پی کا احتجاج جاری، راہل گاندھی کا طلبہ کے مطالبات کی حمایت کا اعلان، جنتر منتر اور اطراف میں سخت سکیورٹی

📷 CJP protest continues in Delhi; Rahul backs students' demands(Photo credit to Social Media)

پولیس نے مختلف مقامات پر بیریکیڈز نصب کیے جبکہ بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ مظاہرین کو حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

انٹرنیٹ سروس معطل، سی آر پی ایف کی اضافی کمپنیاں تعینات، کنّاٹ پلیس کا کاروبار شدید متاثر

نئی دہلی: قومی دارالحکومت نئی دہلی میں طلبہ تنظیم سی جے پی (CJP) کے زیر اہتمام جاری احتجاج نے شدت اختیار کر لی ہے۔ جنتر منتر پر جاری دھرنے کے دوران اپوزیشن کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے طلبہ کے مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ حکومت کو طلبہ کے تینوں مطالبات ہر صورت تسلیم کرنا ہوں گے۔

راہل گاندھی نے واضح کیا کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور احتجاج کرنے والوں کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے۔

جنتر منتر سے پارلیمنٹ مارگ تک احتجاج

احتجاجی مظاہرین جنتر منتر سے پارلیمنٹ مارگ اور ٹالسٹائے مارگ کی جانب بڑھتے رہے، جس کے بعد پولیس نے سکیورٹی کے پیش نظر پارلیمنٹ مارگ کو مکمل طور پر بند کر دیا۔

پولیس نے مختلف مقامات پر بیریکیڈز نصب کیے جبکہ بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تاکہ مظاہرین کو حساس علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

ٹریفک کی روانی شدید متاثر رہی اور مرکزی دہلی کے متعدد علاقوں میں لوگوں کو طویل جام کا سامنا کرنا پڑا۔

ملک گیر احتجاج کی اپیل

سی جے پی نے جمعہ کے روز ملک بھر میں ضلعی سطح پر پرامن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹر میں تمام طلبہ تنظیموں، نوجوانوں اور تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر احتجاج میں حصہ لیں اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کریں۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج جمہوری اور پرامن انداز میں کیا جائے گا تاکہ حکومت تک طلبہ کی آواز مؤثر طریقے سے پہنچ سکے۔

سکیورٹی مزید سخت

احتجاج کے دوران بعض مقامات پر کشیدگی اور مبینہ تشدد کے واقعات کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سی آر پی ایف کی 20 کمپنیاں نئی دہلی میں تعینات کی گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ اضافی نفری مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر مغربی بنگال سے طلب کی گئی تاکہ احتجاج کے دوران قانون و نظم کی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔

پولیس اور نیم فوجی اہلکار مسلسل حساس مقامات پر گشت کر رہے ہیں، جبکہ اہم سرکاری عمارتوں کے اطراف سکیورٹی حصار مزید مضبوط کر دیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ سروس بھی معطل

احتجاج کے دوران ممکنہ ناخوشگوار صورتحال کے پیش نظر دہلی پولیس اور دہلی حکومت نے احتجاجی مقام کے تقریباً دو کلومیٹر کے دائرے میں انٹرنیٹ خدمات مکمل طور پر معطل کر دی ہیں۔

اس سے قبل متعلقہ میٹرو اسٹیشنوں پر بھی سفری پابندیاں عائد کی جا چکی تھیں۔

انٹرنیٹ بند ہونے سے نہ صرف احتجاج میں شریک افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اطراف کے رہائشی علاقوں اور کاروباری مراکز میں موجود شہری بھی شدید متاثر ہوئے۔

کاروباری سرگرمیاں متاثر

احتجاج اور سخت سکیورٹی انتظامات کے باعث نئی دہلی کے معروف تجارتی مرکز کنّاٹ پلیس میں کاروباری سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو گئی ہیں۔

کاروباری تنظیموں کے مطابق کنّاٹ پلیس میں تقریباً دو ہزار دکانیں، تجارتی ادارے اور دفاتر موجود ہیں، جہاں گزشتہ چار دنوں سے معمول کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہیں۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی بندش، ٹریفک کی پابندیوں اور انٹرنیٹ معطلی کے باعث صارفین کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے کاروبار کو بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔

متعدد علاقوں میں شہریوں کو مشکلات

احتجاج اور سکیورٹی اقدامات کے باعث منڈی ہاؤس، بنگالی مارکیٹ، رائسینا روڈ، باراکھمبہ روڈ، اشوک روڈ اور اطراف کے دیگر علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متعدد سڑکوں کی بندش کے باعث دفاتر جانے والے ملازمین، طلبہ اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کو متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے سفری وقت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی

جمعرات کے روز بھی ٹالسٹائے مارگ اور پارلیمنٹ مارگ پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان حالات کشیدہ رہے۔

عینی شاہدین کے مطابق ٹالسٹائے مارگ پر بعض مواقع پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ پولیس کو صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھی چارج کی نوبت بھی پیش آئی۔

اسی طرح پارلیمنٹ مارگ پر بھی وقفے وقفے سے کشیدگی برقرار رہی، جس کے باعث پولیس نے اضافی نفری طلب کر لی۔

صورتحال پر نظریں

دارالحکومت میں جاری احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی ادارے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ احتجاجی تنظیموں نے اپنے کارکنوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر طلبہ تنظیموں کی جانب سے اعلان کردہ ملک گیر احتجاج میں بڑے پیمانے پر شرکت ہوتی ہے تو آنے والے دنوں میں یہ معاملہ مزید سیاسی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کی نظریں بھی اس بات پر مرکوز ہیں کہ طلبہ کے مطالبات اور جاری احتجاج کے حوالے سے آئندہ کیا پیش رفت سامنے آتی ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories