پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پیش آنے والے تصادم اور پولیس کارروائی کے باوجود مظاہرین ایک مرتبہ پھر جنتر منتر پر جمع ہو گئے ہیں
پارلیمنٹ مارچ کے بعد بھی طلبہ اور کارکنوں نے احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا
نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر “کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)” کی قیادت میں طلبہ، نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ یہ تحریک نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک، تعلیمی نظام میں اصلاحات اور مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کو لے کر شروع کی گئی تھی، جو اب مزید شدت اختیار کر چکی ہے۔
پیر کے روز پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پیش آنے والے تصادم اور پولیس کارروائی کے باوجود مظاہرین ایک مرتبہ پھر جنتر منتر پر جمع ہو گئے ہیں اور انہوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے احتجاج جاری رہے گا۔
نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف تحریک
احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ نیٹ امتحان میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کا فقدان ہے اور حکومت اس معاملے میں ذمہ دار افراد کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ پورے امتحانی نظام کا آزادانہ جائزہ لیا جائے، ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جامع اصلاحات نافذ کی جائیں۔
تعلیمی اصلاحات اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ
سی جے پی اور احتجاج میں شریک مختلف طلبہ تنظیموں نے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے۔
ان کے مطابق وزارتِ تعلیم امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوئے ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ صرف تحقیقات کافی نہیں بلکہ نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
پارلیمنٹ مارچ کے دوران کشیدگی
پیر کے روز احتجاجی مظاہرین نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے متعدد مقامات پر بیریکیڈز لگا دیے۔
اس دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ اطلاعات کے مطابق کچھ مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی جبکہ پولیس نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
واقعے کے بعد کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں، اگرچہ پولیس نے غیر ضروری طاقت استعمال کرنے کے الزامات کو مسترد کیا۔
جنتر منتر پر سکیورٹی سخت
پارلیمنٹ مارچ کے بعد دہلی پولیس نے جنتر منتر اور اس کے اطراف سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔
علاقے میں بڑی تعداد میں دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔
حکام کے مطابق امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
احتجاج دوبارہ شروع، مظاہرین کے حوصلے بلند
پولیس کارروائی کے باوجود سی جے پی کے کارکن، طلبہ اور مختلف تنظیموں کے نمائندے دوبارہ جنتر منتر پہنچ گئے اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اعلان کیا کہ ان کی تحریک پرامن انداز میں جاری رہے گی، تاہم وہ اپنے مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے۔
احتجاج میں شریک طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ صرف نیٹ امتحان کا معاملہ نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام میں شفافیت، انصاف اور مساوی مواقع کی جدوجہد ہے۔
سی جے پی کے بانی کا حکومت کو پیغام
سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کسی دباؤ میں آنے والی نہیں اور حکومت کو طلبہ کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائی کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوگا بلکہ اس میں مزید وسعت آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو طاقت کے استعمال کے بجائے طلبہ سے مذاکرات کرنے چاہئیں اور تعلیمی اصلاحات کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔
طلبہ نے انصاف کا مطالبہ دہرایا
احتجاج میں شریک مختلف طلبہ تنظیموں نے کہا کہ وہ امتحانی نظام میں شفافیت، احتساب اور مساوی مواقع کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیپر لیک اور بدعنوانی نے لاکھوں طلبہ کی محنت کو متاثر کیا ہے، اس لیے حکومت کو فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے امتحانات پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
حکومت اور پولیس کا مؤقف
دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن انداز میں جاری رکھنے کی اجازت ہے، تاہم کسی بھی غیر مجاز مارچ یا قانون شکنی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پولیس کے مطابق پیر کے روز کارروائی صرف اس وقت کی گئی جب مظاہرین نے حفاظتی رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش کی اور امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
صورتحال بدستور کشیدہ
جنتر منتر پر احتجاجی ماحول برقرار ہے اور بڑی تعداد میں طلبہ، سماجی کارکن اور مختلف تنظیموں کے نمائندے وہاں موجود ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حکومت جلد مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کرتی تو یہ احتجاج مزید وسیع شکل اختیار کر سکتا ہے، جبکہ طلبہ تنظیموں نے بھی واضح کر دیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک ان کی جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔
پرامن مظاہرین پر پولیس کا تشدد نہایت تشویشناک
حکومت طاقت کے بجائے بات چیت کا راستہ اختیار کرے: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے جنتر منتر کے قریب احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں پر پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن مظاہرین پر لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال اور احتجاج کرنے والوں کی گرفتاری
آئینی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے سخت منافی ہے۔
میڈیا کے لیے جاری اپنے بیان میں پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ پرامن احتجاج کرنے والوں سے بات چیت کے بجائے انھیں پولیس کی جارحانہ کارروائی کانشانہ بنایا گیا۔ ایک جمہوری حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے نوجوانوں کی آواز کا جواب ہمدردی اور مذاکرات سے دے، نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرکے، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور اجتماعی گرفتاریوں کے ذریعے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور عام شہریوں پر طاقت کا استعمال ایک نہایت افسوسناک قدم ہے جو جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
نوجوان نسل کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے پروفیسر انجینیئر سلیم نے کہا کہ احتجاج میں ہزاروں نوجوانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستان کا نوجوان اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ اور پُرعزم ہے۔ شفافیت، انصاف اور جوابدہی کے لیے ان کی جدوجہد قابلِ ستائش ہے۔ یہ بات بھی حو صلہ افزا ہے کہ نوجوان سماج سے لاتعلقی اختیار کرنے کے بجائے جمہوری طریقے سے عوامی مسائل میں اپنا سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام مظاہرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے احتجاج کو ہر حال میں پُرامن بنائے رکھیں، ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور نظم و ضبط اور عدم تشدد کے اعلیٰ ترین اصولوں کی پابندی کریں۔ کیونکہ پُرامن اور اصولی تحریکیں زیادہ اخلاقی قوت اور عوامی حمایت حاصل کرتی ہیں۔
پروفیسر سلیم انجینئر نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے نمائندوں سے مذاکرات کا آغاز کرے، پولیس کی زیادتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور طاقت کا بے جا استعمال کرنے والے پولیس افسران کے خلاف کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسی تعلیمی اصلاحات نافذ کرے جو امتحانی نظام پر عوام کے اعتماد کی بحالی کا ذریعہ بنے ۔
انہوں نے معاشرے کے تمام طبقات سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی انصاف ایک سماجی مسئلہ ہے۔ جماعت اسلامی ہند طلبہ، والدین، اساتذہ اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی اس جدو جہد میں ان کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، جس کا مقصد تعلیمی نظام کو بدعنوانیوں سے پاک کرکے ایک بہتر اور قابلِ اعتماد نظام کی تعمیر ہے۔ ہم ارکانِ پارلیمنٹ، اپوزیشن جماعتوں اور تمام باشعور شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ طلبہ کے جائز مطالبات اور امنگوں کی بھرپور حمایت کریں اور مل کر ایسا تعلیمی نظام کو تشکیل دیں جو انصاف، دیانت داری اور مساوی مواقع کی بنیاد پر قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا مستقبل اس اعتماد پر منحصر ہے جو نوجوان اپنے اداروں پر رکھتے ہیں اور یہ اعتماد صرف انصاف، جوابدہی اور بامعنی اصلاحات کے ذریعے ہی بحال کیا جا سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

