سیاسی عدم استحکام کے خاتمے اور بڑے اصلاحاتی منصوبوں کا اعلان ,ایک دہائی میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِ اعظم، ملک کو نئی سمت دینے کا عزم
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے برطانیہ کے نئے وزیراعظم جناب اینڈی برنہم کو عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارک باد پیش کی۔
لندن: برطانیہ میں سیاسی منظرنامے میں ایک بڑی تبدیلی کے بعد اینڈی برنہم نے باضابطہ طور پر وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے۔ برطانیہ کے بادشاہ شاہ چارلس سوم سے بکنگھم پیلس میں ملاقات کے بعد ان کی بطور وزیرِ اعظم تقرری کی تصدیق کی گئی۔ اینڈی برنہم گزشتہ دس برسوں میں برطانیہ کے ساتویں وزیرِ اعظم بن گئے ہیں، جبکہ انہوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام کے خاتمے، عوامی مسائل کے حل اور بڑے پیمانے پر اصلاحات نافذ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کیئر اسٹارمر کی جگہ اینڈی برنہم نے سنبھالی قیادت
اینڈی برنہم نے سابق وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر کی جگہ اقتدار سنبھالا، جنہیں عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے کے صرف دو سال بعد اپنی جماعت کے اندر سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں منصب چھوڑنا پڑا۔ اسٹارمر نے رخصت ہوتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز قرار دیا اور نئے وزیرِ اعظم اینڈی برنہم کے لیے مکمل تعاون اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اگرچہ اینڈی برنہم نے اپنی پہلی تقریر میں اسٹارمر کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ کو اب ایک نئی سمت اور مضبوط قیادت کی ضرورت ہے۔
“برطانیہ کو دوبارہ استحکام کی طرف لے جانا ہوگا”
وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں اینڈی برنہم نے کہا کہ برطانیہ کو ایک مرتبہ پھر دنیا کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سیاسی استحکام اور مضبوط قیادت کے ذریعے آگے بڑھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں حکومتیں بار بار تبدیل ہونے سے عوام کا اعتماد متاثر ہوا ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ اس سلسلے کو ختم کیا جائے۔
برنہم کے مطابق ملک کو ایسی حکومت درکار ہے جو طویل المدتی منصوبہ بندی کرے، عوام کے مسائل کو ترجیح دے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنائے۔
قیادت کی مسلسل تبدیلی پر برہمی کا اظہار
اینڈی برنہم نے اپنی تقریر میں برطانیہ میں بار بار وزرائے اعظم کی تبدیلی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال سے “تھک چکے” ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل بدلتی ہوئی قیادت نے نہ صرف حکومتی کارکردگی کو متاثر کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی برطانیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال برطانوی سیاست کے لیے ایک نئے عزم اور خود احتسابی کا تقاضا کرتی ہے تاکہ ملک کو ایک مستحکم مستقبل دیا جا سکے۔
40 برس کی سب سے بڑی اصلاحات کا وعدہ
نئے وزیرِ اعظم نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت برطانیہ میں گزشتہ چالیس برس کی سب سے بڑی اصلاحات متعارف کرائے گی۔
انہوں نے کہا کہ صرف سیاسی نظام ہی نہیں بلکہ اقتصادی ڈھانچے میں بھی بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں گی تاکہ عوام کو بہتر سہولیات، زیادہ روزگار کے مواقع اور مضبوط معیشت فراہم کی جا سکے۔
برنہم نے کہا کہ ان کی حکومت ایک نیا سیاسی اور معاشی ماڈل متعارف کرائے گی جو آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔
مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے نمٹنے کے اقدامات
اینڈی برنہم نے اعتراف کیا کہ برطانیہ کے عوام اس وقت مہنگائی، بڑھتے ہوئے اخراجات اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے وعدہ کیا کہ حکومت اسی ہفتے ایسے اقدامات کا اعلان کرے گی جن کا مقصد عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات میں کمی لانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو “سانس لینے کا موقع” فراہم کرنا چاہتی ہے تاکہ لوگ معاشی دباؤ سے نکل سکیں۔
بے گھر افراد کے مسئلے کو اولین ترجیح
وزیرِ اعظم اینڈی برنہم نے اعلان کیا کہ وزارت سنبھالتے ہی ان کی پہلی ہدایت برطانیہ میں سڑکوں پر رہنے والے بے گھر افراد کے مسئلے کو ختم کرنے سے متعلق ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر ایسے اقدامات کرے گی جن کے ذریعے بے گھر افراد کو رہائش، سماجی تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
ان کے مطابق کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں لوگوں کا سڑکوں پر سونا قابلِ قبول نہیں اور اس مسئلے کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
دس سالہ قومی منصوبے کی تیاری
اینڈی برنہم نے یہ بھی اعلان کیا کہ رواں سال کے دوران ایک جامع دس سالہ قومی ترقیاتی منصوبہ پیش کیا جائے گا، جس میں معیشت، صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، روزگار اور سماجی بہبود سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات شامل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ برطانیہ کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے اور طویل المدتی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
معیشت پر سمجھوتہ نہیں ہوگا
اگرچہ نئے وزیرِ اعظم نے عوام کو معاشی ریلیف دینے کا وعدہ کیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ایسے فیصلے نہیں کرے گی جن سے ملکی معیشت کو نقصان پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ریلیف اور معاشی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے گا اور حکومت ذمہ دارانہ مالی پالیسیوں کے تحت فیصلے کرے گی تاکہ برطانیہ کی اقتصادی بنیادیں مزید مضبوط ہوں۔
سیاسی مبصرین کی نظریں نئی حکومت پر
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اینڈی برنہم کو ایسے وقت میں وزارتِ عظمیٰ ملی ہے جب برطانیہ کو مہنگائی، سیاسی تقسیم، عوامی بے چینی اور مقبولیت حاصل کرنے والی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ جیسے کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر نئی حکومت اپنے وعدوں کے مطابق سیاسی استحکام، معاشی اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ برطانیہ کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے حکومت کو عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
وزیر اعظم نے جناب اینڈی برنہم کو برطانیہ کے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی
وزیراعظم جناب نریندر مودی نے برطانیہ کے نئے وزیراعظم جناب اینڈی برنہم کو عہدہ سنبھالنے پر دلی مبارک باد پیش کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت اور برطانیہ، مشترکہ جمہوری اقدار کے مضبوط رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں وسیع تعاون جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ سی ای ٹی اے کے نافذ العمل ہونے کے بعد دونوں ممالک کے باہمی تعلقات مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ جناب اینڈی برنہم کے ساتھ مل کر بھارت–برطانیہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے اور مشترکہ وژن 2035 کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی تعاون کریں گے۔
وزیراعظم نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا:
“برطانیہ کے وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر جناب اینڈی برنہم کو دلی مبارک باد۔
بھارت اور برطانیہ مشترکہ جمہوری اقدار کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، دفاع اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں ہمارے درمیان وسیع تعاون ہے۔ اس ماہ سی ای ٹی اے کے نافذ ہونے کے بعد ہماری دوطرفہ شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔
میں آپ کے ساتھ مل کر بھارت–برطانیہ جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے اور ہمارے مشترکہ ویژن 2035 کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

