امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے معاملے سے باخبر دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور دفاعی کارروائیوں کے دوران امریکی فوج نے اپنے میزائل دفاعی ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔
واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے جدید ترین میزائل دفاعی نظام “تھاڈ” (THAAD) میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 80 فیصد ذخیرہ ختم ہو چکا ہے، جبکہ پیٹریاٹ (Patriot) دفاعی نظام کے انٹرسیپٹرز کا بھی لگ بھگ نصف ذخیرہ استعمال کیا جا چکا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے معاملے سے باخبر دو ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور دفاعی کارروائیوں کے دوران امریکی فوج نے اپنے میزائل دفاعی ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گولہ بارود اور میزائلوں کے کم ہوتے ذخائر، نیز مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں پر ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی کے خدشات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانی تنصیبات پر مجوزہ بڑے پیمانے کے حملوں کا منصوبہ منسوخ کرنے پر آمادہ کیا۔
اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے بھی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکا اپنے انتہائی درست نشانہ لگانے والے بیشتر جدید میزائل استعمال کر چکا ہے۔
دوسری جانب پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی فوج کے پاس مطلوبہ کارروائیوں کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود کی کوئی کمی نہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے احکامات پر کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے بھی واضح کیا کہ امریکی فوج کے پاس صدر ٹرمپ کے تمام اسٹریٹجک اہداف اور مستقبل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے گولہ بارود اور دفاعی ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں۔
تاہم امریکی میڈیا کی رپورٹ نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکا کی دفاعی صلاحیتوں اور اسلحہ کے ذخائر سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

