کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلاتی آگ نے شدید تباہی مچا دی ہے، جہاں مختلف علاقوں میں سیکڑوں رہائشی مکانات اور دیگر عمارتیں آگ کی لپیٹ میں آ چکی ہیں
وینکوور: کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں جنگلاتی آگ نے شدید تباہی مچا دی ہے، جہاں مختلف علاقوں میں سیکڑوں رہائشی مکانات اور دیگر عمارتیں آگ کی لپیٹ میں آ چکی ہیں، جبکہ تقریباً 8 ہزار افراد کو اپنے گھروں سے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 7 ہزار 100 سے زائد افراد کو کسی بھی وقت انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال حالیہ برسوں کی بدترین جنگلاتی آگ میں شمار کی جا رہی ہے۔ برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی، خشک موسم، کم نمی اور خشک آسمانی بجلی کے امکانات کے باعث آئندہ چند روز میں آگ مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
پیر لیک آگ سے بڑے پیمانے پر تباہی
تھامپسن-نکولا ریجنل ڈسٹرکٹ (TNRD) کے مطابق پیر لیک (Pear Lake) کے قریب بھڑکنے والی جنگلاتی آگ نے کلنٹن کے اطراف تقریباً 120 جائیدادوں پر موجود ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا ہے، جن میں زیادہ تر رہائشی مکانات شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ متعدد جائیدادوں پر ایک سے زیادہ عمارتیں موجود تھیں، جن میں رہائشی گھر، گیراج، شیڈ، ورکشاپس، موبائل ٹریلرز اور دیگر تعمیرات شامل تھیں۔ ابتدائی تخمینوں کے مطابق سیکڑوں ڈھانچے مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، تاہم اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے کیونکہ کئی متاثرہ علاقوں تک اب بھی محفوظ طریقے سے رسائی ممکن نہیں۔
مزید نقصان کا خدشہ برقرار
ٹی این آر ڈی کے ترجمان کولٹن ڈیوس نے بتایا کہ نقصان کا ابتدائی سروے صرف ان علاقوں میں کیا گیا جہاں فائر فائٹرز اور امدادی عملہ محفوظ انداز میں پہنچ سکا۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی مزید علاقوں تک رسائی ممکن ہوگی، تباہ شدہ مکانات اور عمارتوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آنے کا امکان ہے۔
ڈیوس کے مطابق انتظامیہ متاثرہ خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہے اور انہیں ان کی جائیدادوں کی صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے، تاہم یہ انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے کیونکہ کئی افراد کو بتایا جا رہا ہے کہ ان کے گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو چکے ہیں۔
ورنن کے قریب بھی آگ بے قابو
ادھر اوکاناگن ریجن میں برَیڈلی کریک (Bradley Creek) کے مقام پر لگی جنگلاتی آگ نے بھی بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
اوکاناگن انڈین بینڈ کے سربراہ کے مطابق اس علاقے میں کم از کم 200 مکانات آگ کی نذر ہو چکے ہیں۔
ہفتے کے روز تیز رفتار ہواؤں نے آگ کو انتہائی سرعت سے مختلف سمتوں میں پھیلایا، جس کے باعث کئی رہائشی علاقوں کو خالی کرانا پڑا۔
حکام کے مطابق خوش آئند بات یہ ہے کہ اب تک ان جنگلاتی آگ کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، تاہم مالی نقصان انتہائی زیادہ ہے۔
شدید گرمی اور خشک موسم نئی آزمائش
برٹش کولمبیا وائلڈ فائر سروس نے خبردار کیا ہے کہ جنوبی انٹیریئر کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت آئندہ دنوں 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انتہائی خشک ماحول، کم نمی اور خشک آسمانی بجلی نئی آگ بھڑکنے کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ اگرچہ بعض علاقوں میں ہوا کی رفتار کم ہے، تاہم موجودہ موسمی حالات میں معمولی سی چنگاری بھی وسیع جنگلاتی آگ کا سبب بن سکتی ہے۔
فضائی آلودگی میں خطرناک اضافہ
جنگلاتی آگ سے اٹھنے والے دھوئیں نے جنوبی برٹش کولمبیا کے کئی علاقوں میں فضائی آلودگی کو خطرناک سطح تک پہنچا دیا ہے۔
ماحولیات کینیڈا نے متعدد شہروں کے لیے فضائی معیار سے متعلق خصوصی وارننگ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
خصوصاً حاملہ خواتین، بزرگ افراد، چھوٹے بچوں اور دل یا سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دھوئیں کی شدت ہوا کے رخ کے مطابق ہر گھنٹے تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے شہری تازہ ترین سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔
ہزاروں افراد بے گھر
صوبائی ایمرجنسی حکام کے مطابق ہزاروں افراد عارضی امدادی مراکز میں منتقل کیے جا چکے ہیں، جہاں انہیں رہائش، خوراک اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکومت نے متاثرہ افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ ایمرجنسی سپورٹ سروسز میں پیشگی رجسٹریشن کرائیں تاکہ ضرورت پڑنے پر امداد بروقت فراہم کی جا سکے۔
حکومت پر تنقید
ادھر اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ برٹش کولمبیا میں فوری طور پر صوبائی ہنگامی حالت نافذ کی جائے تاکہ اضافی وسائل بروئے کار لائے جا سکیں۔
تاہم صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ موجودہ وسائل اور امدادی انتظامات صورتحال سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں اور اس مرحلے پر ہنگامی حالت نافذ کرنے کی ضرورت نہیں۔
آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری
بدھ کی سہ پہر تک برٹش کولمبیا میں 117 جنگلاتی آگ فعال تھیں، جن میں سے تقریباً نصف پر ابھی تک مکمل قابو نہیں پایا جا سکا۔
صوبائی وائلڈ فائر سروس، فائر فائٹرز، فضائی عملہ اور امدادی ادارے مسلسل آگ پر قابو پانے، حفاظتی لائنیں قائم کرنے اور متاثرہ آبادیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے مصروف عمل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلے پر ان کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ، رہائشی علاقوں کو مزید نقصان سے بچانا اور آگ کے پھیلاؤ کو محدود کرنا ہے، جبکہ موسم کی صورتحال پر بھی مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

