سڑک پر اروند کیجریوال دھرنے پر بیٹھ گئے، 2.33 لاکھ درخواستیں لے کر پولیس نے دھرنا ختم کرایا,مودی حکومت ٹرمپ کے دباؤ میں امریکہ سے ایتھنول خرید کر ملک پر مسلط کرنا بند کریں:کیجریوال
ملک کی خودداری، عزت اور 30 کروڑ گاڑیاں مودی جی نے ٹرمپ کے ہاتھوں گروی رکھ دی ہیں: سنجے سنگھ
جب ای-20 سے مائلیج کم ہو رہی ہے، انجن خراب ہو رہے ہیں تو مودی جی اسے زبردستی کیوں مسلط کر رہے ہیں؟: منیش سسودیا
نئی دہلی، 4 اگست: ای-20 پٹرول کے خلاف 100 لوگوں کے ساتھ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے لیے پیدل مارچ کرتے ہوئے ان کی رہائش گاہ کی جانب جا رہے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو دہلی پولیس نے راستے میں ہی روک لیا۔ اس کے بعد اروند کیجریوال لوگوں کی جانب سے موصول ہونے والی 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد درخواستیں لے کر سڑک پر ہی دھرنے پر بیٹھ گئے اور وزیر اعظم سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ پولیس نے انہیں بتایا کہ وزیر اعظم ملاقات نہیں کرنا چاہتے، جس کے بعد تمام درخواستیں لے کر دھرنا ختم کرا دیا گیا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ مودی حکومت ٹرمپ کے دباؤ میں امریکہ سے ایتھنول خرید کر ملک پر مسلط کرنا بند کرے۔ وزیر اعظم ہم پر اپنی طاقت دکھا کر کیا حاصل کریں گے؟ انہیں یہی ہمت ٹرمپ کے سامنے دکھانی چاہیے۔ اگر ای-20 واپس نہیں لیا گیا تو ملک ایک بار پھر بڑے احتجاج کے لیے مجبور ہو جائے گا۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنما منیش سسودیا، راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ سمیت پارٹی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ ہم 2,33,238 درخواستیں لے کر وزیر اعظم کو دینے گئے تھے، لیکن پولیس نے ہمیں وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ ایک ماہ قبل ای-20 کے معاملے پر وزیر اعظم سے بات چیت کے لیے وقت مانگا تھا، لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ آج جب ہم انہیں درخواست دینے کے لیے نکلے تو جواب ملا کہ وہ ملاقات نہیں کریں گے۔ یہ ان کی آمریت کو ظاہر کرتا ہے۔ جس طرح انہوں نے نیٹ کے پورے معاملے میں آمریت کا مظاہرہ کیا، اسی طرح ای-20 کے معاملے پر بھی وہ اپنی ضد پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے خود پارلیمنٹ میں تسلیم کیا ہے کہ گاڑیوں کی مائلیج کم ہوتی ہے، اگرچہ تھوڑی کم ہوتی ہے۔ انجن کے پرزے خراب ہوتے ہیں، اگرچہ ربڑ والے پرزے خراب ہوتے ہیں۔ جب انجن کے پرزے خراب ہو رہے ہیں اور گاڑیوں کی مائلیج بھی کم ہو رہی ہے تو پھر حکومت نے اسے زبردستی کیوں نافذ کر رکھا ہے؟اروند کیجریوال نے بتایا کہ یہ زبردستی اس لیے کی جا رہی ہے کیونکہ ٹرمپ مودی جی کے سر پر سوار ہیں۔ ٹرمپ ان پر اتنا دباؤ ڈال رہے ہیں کہ مودی جی میں ٹرمپ کے سامنے نہیں کہنے کی ہمت نہیں ہے۔ ٹرمپ زبردستی کر رہے ہیں کہ امریکہ سے ایتھنول خرید کر بھارت میں فروخت کیا جائے، اسی لیے یہ پورا ای-20 منصوبہ لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم درخواستیں لے کر گئے تھے، جو رسی سے باندھی ہوئی تھیں، لیکن کسی وجہ سے وہ رسیاں کھل گئیں اور کئی درخواستیں اِدھر اُدھر ہو گئیں۔ اگر وزیر اعظم کا دفتر کہے گا تو ہم تمام درخواستوں کا ایک نیا مکمل سیٹ انہیں بھجوا دیں گے۔ اگر 2 لاکھ 33 ہزار سے زیادہ لوگوں نے اتنی جلدی دستخط کر دیے ہیں تو ظاہر ہے کہ پورے ملک میں اس معاملے کو لے کر بہت بے چینی ہے۔ ہم وزیر اعظم سے صرف یہ درخواست کرنا چاہتے ہیں کہ وہ امریکہ سے ایتھنول خریدنا بند کریں اور ٹرمپ کا دباؤ برداشت کرنا سیکھیں، کیونکہ اس کی وجہ سے پورا ملک مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اروند کیجریوال نے بتایا کہ ابھی پنجاب اسمبلی میں ای-20 کو واپس لینے کے حق میں قرارداد منظور کی گئی ہے۔ ای-20 عوام کے خلاف ہے اور وزیر اعظم کو ٹرمپ کا دباؤ قبول نہیں کرنا چاہیے۔ گوا میں ہمارے دو، گجرات میں پانچ اور جموں و کشمیر میں ہمارا ایک رکن اسمبلی ہے۔ جموں و کشمیر، گجرات اور گوا میں بھی ہمارے ارکان اسمبلی یہ قرارداد پیش کریں گے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ قرارداد منظور ہوگی یا نہیں، کیونکہ کم از کم گجرات اور گوا میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور وہ اسے منظور نہیں ہونے دیں گی۔ لیکن ہم وہاں بھی ای-20 واپس لینے کی قرارداد ضرور پیش کریں گے۔اروند کیجریوال نے کہا کہ نیٹ کے پورے احتجاج کے دوران مودی جی کو خود فیصلہ کرنا تھا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لینا ہے یا نہیں۔ لیکن یہاں تو ٹرمپ کا دباؤ ہے اور ٹرمپ کے سامنے مودی جی بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔ اس معاملے میں مودی جی کی نہیں چلتی اور ان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ اگر عوام ای-20 سے نجات چاہتے ہیں تو انہیں بڑے پیمانے پر سڑکوں پر اترنا ہوگا۔ یہ تحریک جاری رہے گی۔ آئندہ کب اور کون سی سرگرمی کی جائے گی، اس پر جلد ہی غور و خوض کے بعد آگاہ کیا جائے گا۔ اروند کیجریوال نے کہا کہ آج جو 100 متاثرہ لوگ یہاں آئے، انہوں نے بڑی ہمت کا مظاہرہ کیا ہے، کیونکہ آج کے دور میں ہمت کرنا بہت مشکل ہے۔ جو شخص سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو ڈال دیتا ہے، یہ لوگ اس کے خلاف کارروائی شروع کر دیتے ہیں، ایف آئی آر درج کر دیتے ہیں۔ ان کے ٹرول دھمکاتے ہیں اور ان کے غنڈے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ انہوں نے بہت غنڈہ گردی مچا رکھی ہے، لیکن یہی غنڈہ گردی ان کے خاتمے کا سبب بنے گی۔ اس موقع پر آپ کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ ٹرمپ کے دباؤ میں آکر وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک کی خودداری، عزت اور ہندوستان کی 30 کروڑ گاڑیوں کو ٹرمپ کے ہاتھوں گروی رکھ دیا ہے۔ ٹرمپ کی غلامی کی وجہ سے وزیر اعظم مودی امریکہ سے 22 ہزار کروڑ روپے کا کچرا خریدنے جا رہے ہیں۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ اروند کیجریوال نے ایک ماہ قبل وزیر اعظم کو خط لکھ کر درخواست کی تھی کہ ہم اس معاملے پر ان سے ملاقات کرکے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ 2 لاکھ 33 ہزار لوگوں نے دستخط کرکے کہا کہ وہ ای-20 کے خلاف ہیں۔ لیکن ٹرمپ کی غلامی کی وجہ سے وزیر اعظم نے اروند کیجریوال کی بات نہیں سنی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آج اروند کیجریوال اپنے ان 100 متاثرہ ساتھیوں کے ساتھ، جن کی گاڑیاں ای-20 پٹرول کی وجہ سے خراب ہوئی ہیں، یہ 2 لاکھ 33 ہزار درخواستیں وزیر اعظم کو سونپنے جا رہے تھے۔ لیکن 100 لوگوں کو روکنے کے لیے بڑی تعداد میں پولیس فورس تعینات کی گئی اور ایک ہزار پولیس اہلکار لگا دیے گئے۔ دراصل یہی مودی کا راج ہے۔ اروند کیجریوال کی قیادت میں ای-20 کے خلاف یہ لڑائی آگے بھی جاری رہے گی اور ہم وزیر اعظم نریندر مودی کو ٹرمپ کی غلامی اور دلالی نہیں کرنے دیں گے۔ آپ کے سینئر رہنما منیش سسودیا نے کہا کہ ای-20 کا معاملہ ملک کے 30 کروڑ لوگوں کی گاڑیوں میں زبردستی ایتھنول ڈلوانے کا معاملہ ہے۔ کروڑوں لوگ بتا رہے ہیں کہ اس سے ان کی گاڑیوں کو نقصان ہو رہا ہے، مائلیج کم ہو رہی ہے، انجن خراب ہو رہا ہے اور سروس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ منیش سسودیا نے کہا کہ عوام کو اتنا نقصان ہو رہا ہے، پھر بھی مودی جی اس معاملے پر کیوں بضد ہیں؟ صرف امریکہ کے دباؤ میں، ٹرمپ کے دباؤ میں۔ ٹرمپ کے پاس اضافی ایتھنول تھا، جسے انہوں نے مودی جی کو جھکا کر بھارت سے خریدنے پر مجبور کر دیا۔ آج اسی معاملے سے متعلق لاکھوں لوگوں کی درخواستیں لے کر ہم وزیر اعظم کو دینے کے لیے نکلے تھے، لیکن وزیر اعظم نے ملاقات سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد یہ درخواستیں پولیس کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر بھجوائی گئیں۔
لوگوں نے وزیر اعظم کے نام یہ درخواست دستخط کرکے دی
درخواست میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کہا گیا ہے:
ملک بھر میں ای-20 پٹرول مسلط کیے جانے کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ حکومت ہماری بات نہیں سن رہی اور اسے زبردستی نافذ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ حکومت کے فیصلوں کو درست ثابت کرنے کے لیے نہ کوئی دلیل ہے، نہ سائنس، نہ انجینئرنگ اور نہ ہی معاشیات۔ شاید اس کے پیچھے کوئی ایسی سیاست ہے جو میری سمجھ سے بالاتر ہے اور میں اسے سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔
اس ملک کے ایک شہری کی حیثیت سے، میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ:
ّ-1 پٹرول پمپس پر ہمیں خالص پٹرول اور ای-20 کے درمیان انتخاب کا اختیار دیا جائے، تاکہ ہمیں ایسے ایندھن کے استعمال پر مجبور نہ ہونا پڑے جو ہماری گاڑیوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔
- 2 ای-20 کی قیمت کم کی جائے تاکہ اس کی کم حرارتی قدر اور اس سے حاصل ہونے والی کم مائلیج کے مطابق قیمت مقرر ہو۔ اس طرح ہمیں کم معیار والے یا معیار سے سمجھوتہ کیے گئے ایندھن کے لیے پوری قیمت ادا نہ کرنا پڑے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

