متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواست دینے والے پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس سے کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔
اسلام آباد: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواست دینے والے پاکستانی شہریوں کے لیے وزٹ ویزوں کا اجرا دوبارہ شروع کر دیا ہے، جس سے کئی ماہ سے جاری غیر یقینی صورتحال میں نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق سفری صنعت سے وابستہ نمائندوں اور پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بھی کی ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستانی شہریوں کو یو اے ای کے وزٹ ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ متعدد درخواست گزاروں نے ویزوں میں غیر معمولی تاخیر اور بڑی تعداد میں درخواستیں مسترد ہونے کی شکایات کی تھیں۔ اگرچہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی حکومتیں بارہا یہ واضح کرتی رہی تھیں کہ پاکستانی شہریوں پر کسی قسم کی سرکاری یا مکمل ویزا پابندی عائد نہیں، تاہم سخت جانچ پڑتال اور اضافی تصدیقی عمل کے باعث ویزا حاصل کرنا مشکل ہو گیا تھا۔
اب تازہ پیش رفت کے بعد رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواست دینے والے پاکستانی شہری دوبارہ وزٹ ویزا حاصل کر سکیں گے۔ سفری ماہرین کے مطابق سب سے زیادہ فائدہ ان خاندانوں کو ہوگا جو سیاحت یا اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے لیے متحدہ عرب امارات جانا چاہتے ہیں، کیونکہ ایسی درخواستوں کی منظوری کا عمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور آسان بنا دیا گیا ہے۔
اروما ٹریولز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان (TAAP) کے سابق چیئرمین محمد ندیم شریف نے بتایا کہ پاکستانی سیاحوں، خصوصاً اہل خانہ کے ساتھ سفر کرنے والوں کو اب دوبارہ ویزے جاری کیے جا رہے ہیں، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کے ساتھ سفر کرنے والے یا متحدہ عرب امارات میں مقیم اپنے عزیزوں سے ملاقات کے خواہش مند پاکستانی شہریوں کی درخواستوں پر اب بروقت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ویزا سہولت کی بحالی کے بعد سیاحتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے جبکہ حالیہ مہینوں میں کم ہونے والی فضائی آمدورفت بھی آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔
ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے عہدیدار محمد حنیف رِنچ نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران انفرادی درخواستوں کی نسبت خاندانی درخواستوں کے مسترد ہونے کی شرح زیادہ تھی، تاہم اب خاندانوں کو ویزے ملنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت متحدہ عرب امارات جانے والے پاکستانی مسافروں میں تقریباً 10 فیصد خاندان شامل ہیں۔
ایک سینئر پاکستانی امیگریشن افسر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ دبئی جانے والے پاکستانی مسافروں کی یومیہ تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کے مطابق رواں موسم گرما کے آغاز میں روزانہ تقریباً 170 پاکستانی مسافر دبئی جا رہے تھے، جبکہ جولائی کے آخری ہفتے تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 400 ہو گئی۔ تاہم یہ تعداد اب بھی دو سال قبل کے مقابلے میں کم ہے، جب روزانہ تقریباً ایک ہزار پاکستانی دبئی کا سفر کرتے تھے۔
ویزا حاصل کرنے کے لیے اہلیت
سفری صنعت کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ تک کارآمد پاکستانی پاسپورٹ ہونا ضروری ہے۔ درخواست گزار کو سیاحت، خاندانی ملاقات یا کاروباری مقصد واضح کرنا ہوگا، مالی وسائل کا ثبوت دینا ہوگا اور اس کا سابقہ امیگریشن ریکارڈ صاف ہونا چاہیے۔ درخواست رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹ یا مجاز اسپانسر کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔
ضروری دستاویزات
ویزے کے لیے درخواست دینے والوں کو کارآمد پاسپورٹ، حالیہ پاسپورٹ سائز تصویر، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC)، مکمل ویزا درخواست فارم، واپسی کی فلائٹ بکنگ (اگر درکار ہو)، ہوٹل بکنگ یا متحدہ عرب امارات میں میزبان کا دعوت نامہ، گزشتہ تین سے چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ اور دیگر مطلوبہ دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔
منظوری کے امکانات بڑھانے کے لیے مشورے
ماہرین نے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف مجاز اور رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواست دیں، تمام دستاویزات درست اور مکمل فراہم کریں، بینک اکاؤنٹ میں مناسب مالی وسائل ظاہر کریں، اگر ممکن ہو تو خاندان کے ساتھ درخواست جمع کرائیں کیونکہ ایسی درخواستوں کی منظوری کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں، اور سابقہ بین الاقوامی سفری ریکارڈ بھی شامل کریں۔
ویزا عمل سخت کیوں ہوا؟
پاکستانی حکام نے اس سے قبل پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ متحدہ عرب امارات نے بعض سنگین بے ضابطگیوں کے باعث پاکستانی درخواستوں کی جانچ پڑتال سخت کر دی تھی۔ ان میں جعلی تعلیمی اسناد، جعلی ملازمت کے معاہدے، ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام، مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونا، غیر مجاز سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال جیسے معاملات شامل تھے۔
ان واقعات کے بعد متحدہ عرب امارات نے درخواست گزاروں کی پس منظر جانچ اور دستاویزات کی تصدیق مزید سخت کر دی، تاہم یو اے ای نے ہمیشہ اس بات کی تردید کی کہ پاکستانی شہریوں پر کسی قسم کی عمومی یا مکمل ویزا پابندی عائد کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق ہر درخواست کا جائزہ انفرادی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔
پاکستان میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی کہ رجسٹرڈ ٹریول ایجنٹس کے ذریعے درخواست دینے والے عام پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز کو وزٹ ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔ اہلکار کے مطابق اگرچہ ماضی میں سکیورٹی وجوہات کی بنا پر بعض درخواستوں میں تاخیر ہوئی تھی، تاہم اب مکمل اور درست دستاویزات کے ساتھ درخواست دینے والے شہری بلا کسی بڑی رکاوٹ کے ویزا حاصل کر سکتے ہیں۔
سفری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے نہ صرف پاکستانی سیاحوں کو ریلیف ملے گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، کاروباری روابط اور عوامی سطح پر آمدورفت میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

