مشن کے مطابق اسپیس ایکس کا خلائی جہاز 12 ستمبر کو امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوگا۔ عملہ تقریباً چھ ماہ تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں قیام کرے گا، جہاں وہ سائنسی تجربات، خلائی نظام کی نگرانی اور مختلف تکنیکی ذمہ داریاں انجام دے گا۔
اوٹاوا: کینیڈا کے خلا باز جوشوا کٹرک آئندہ ماہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (International Space Station) کے چھ ماہ طویل مشن پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ سائنسی تجربات، خلائی اسٹیشن کی دیکھ بھال اور انسانی صحت سے متعلق متعدد اہم تحقیقی منصوبوں میں حصہ لیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ مشن نہ صرف کینیڈا بلکہ عالمی خلائی تحقیق کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، کیونکہ اس دوران ہونے والی تحقیقات مستقبل میں دل کی بیماریوں، ہڈیوں کی کمزوری اور دیگر طبی مسائل کے علاج میں نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔
44 سالہ جوشوا کٹرک کا تعلق کینیڈا کے صوبہ البرٹا کے شہر فورٹ سسکیچیوان سے ہے، جہاں ان کا بچپن ایک مویشی فارم پر گزرا۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن سے خلا میں جانے کا خواب ضرور دیکھا تھا، لیکن کبھی یقین نہیں تھا کہ ایک دن وہ حقیقت میں خلا باز بن جائیں گے۔ ان کے مطابق کینیڈا کی نمائندگی کرتے ہوئے بین الاقوامی خلائی مشن کا حصہ بننا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز ہے۔
جوشوا کٹرک ناسا اور اسپیس ایکس کے مشترکہ مشن “کریو 13” کے چار رکنی عملے کا حصہ ہوں گے۔ اس ٹیم میں امریکی خلا باز جیسیکا واٹکنز، لیوک ڈیلانی اور روسی خلا باز سرگئی تیتر یاتنیکوف بھی شامل ہیں۔ جیسیکا واٹکنز اس سے قبل بھی بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر خدمات انجام دے چکی ہیں، جس سے اس مشن کو مزید تجربہ کار قیادت حاصل ہوگی۔
مشن کے مطابق اسپیس ایکس کا خلائی جہاز 12 ستمبر کو امریکی ریاست فلوریڈا میں واقع کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوگا۔ عملہ تقریباً چھ ماہ تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں قیام کرے گا، جہاں وہ سائنسی تجربات، خلائی نظام کی نگرانی اور مختلف تکنیکی ذمہ داریاں انجام دے گا۔
اس مشن کا بنیادی مقصد انسانی صحت سے متعلق ایسے تجربات کرنا ہے جن سے مستقبل میں نئی طبی دریافتیں ممکن ہو سکیں۔ جوشوا کٹرک کے مطابق خلائی ماحول میں موجود انتہائی کم کششِ ثقل انسانی جسم پر ایسے اثرات مرتب کرتی ہے جن کا مطالعہ زمین پر پائی جانے والی کئی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خلا میں انسانی جسم نسبتاً تیزی سے عمر رسیدگی کے اثرات کا شکار ہوتا ہے، جس کے باعث وہ تبدیلیاں جو زمین پر کئی برسوں میں سامنے آتی ہیں، خلائی ماحول میں مختصر عرصے میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خلائی تحقیق کو طبی سائنس کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
کینیڈا کی نگرانی میں ہونے والی اس تحقیق میں دل کی بیماریوں، ہڈیوں کی کمزوری، عضلاتی نظام اور خون کی گردش پر خلائی ماحول کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان تحقیقات سے مستقبل میں ایسی نئی ادویات اور علاج سامنے آ سکتے ہیں جو دنیا بھر میں لاکھوں مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
جوشوا کٹرک نے کہا کہ ان کا اپنا جسم بھی ان سائنسی تجربات میں ایک تحقیقی نمونے کے طور پر استعمال ہوگا تاکہ ان طبی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے جن کا سامنا عمر کے مختلف مراحل میں تقریباً ہر انسان کو ہوتا ہے۔
کینیڈین خلائی ادارے (Canadian Space Agency) کے حکام کا کہنا ہے کہ انسانی صحت سے متعلق خلائی تحقیق اب کینیڈا کی نمایاں مہارت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ کئی برسوں کے دوران کینیڈا نے اس شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مستقبل میں بھی عالمی خلائی تحقیق میں مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔
اس مشن کے دوران بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں نصب کینیڈا کے تیار کردہ جدید روبوٹک نظام کی دیکھ بھال بھی کی جائے گی۔ جوشوا کٹرک روبوٹکس کے شعبے میں خصوصی مہارت رکھتے ہیں، اس لیے وہ اس جدید نظام کی مرمت، نگرانی اور آپریشن میں اہم کردار ادا کریں گے۔
خلائی ماہرین کے مطابق جوشوا کٹرک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر طویل مدت کے لیے جانے والے کینیڈا کے چوتھے خلا باز ہوں گے۔ چونکہ ناسا 2030 تک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو مرحلہ وار بند کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، اس لیے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اس اسٹیشن پر طویل قیام کرنے والے آخری کینیڈین خلا باز بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
جوشوا کٹرک نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کا خلائی مشن نئی نسل کو سائنس، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اس وقت خلائی تحقیق کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے اور آنے والے برسوں میں نوجوان سائنس دانوں، انجینئرز اور خلا بازوں کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان محنت، لگن اور عزم کے ساتھ اپنے خوابوں کا تعاقب کریں تو خلائی تحقیق کا روشن مستقبل ان کا منتظر ہے، اور وہ بھی ایک دن عالمی سطح پر کینیڈا کا نام روشن کر سکتے ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

