کینیڈا کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین ردھم) سے متعلق مخصوص “کلاک جینز” بچوں میں موٹاپے کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں
اوٹاوا: کینیڈا کے محققین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ جسم کی حیاتیاتی گھڑی (سرکیڈین ردھم) سے متعلق مخصوص “کلاک جینز” بچوں میں موٹاپے کے خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ان جینیاتی اثرات کی ابتدائی عمر میں نشاندہی کر لی جائے تو بچوں کی خوراک اور طرزِ زندگی میں بروقت تبدیلیاں لا کر مستقبل میں موٹاپے اور دیگر دائمی بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق یونیورسٹی آف گویلف کے گویلف فیملی ہیلتھ اسٹڈی (GFHS) کے محققین نے کی، جس کے نتائج جون میں سائنسی جریدے نیوٹرینٹس (Nutrients) میں شائع ہوئے۔
تحقیق کے مطابق “کلاک جینز” ایسے جینز ہیں جو جسم کے خلیوں کے اندر مختلف حیاتیاتی سرگرمیوں کو 24 گھنٹے کے قدرتی نظام کے تحت منظم کرتے ہیں۔ محققین نے دریافت کیا کہ ان جینز کی بعض مخصوص جینیاتی تبدیلیاں بچوں میں زیادہ کیلوریز کے استعمال سے منسلک ہو سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں موٹاپے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
یونیورسٹی آف گویلف کے شعبۂ ہیومن ہیلتھ سائنسز کے پروفیسر ڈاکٹر ڈیوڈ ما نے کہا کہ یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ انسانی جسم کی قدرتی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق زندگی گزارنا نہایت اہم ہے، کیونکہ یہی نظام کھانے پینے کی عادات اور مستقبل میں دائمی بیماریوں کے امکانات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت مند عادات، جیسے مناسب نیند، جسمانی سرگرمی اور متوازن غذا، بچپن ہی میں تشکیل پاتی ہیں، اس لیے ابتدائی عمر میں درست رہنمائی انتہائی ضروری ہے۔
محققین کے مطابق ماضی میں ہونے والی تحقیقات میں سرکیڈین جینیات اور غذائی عادات کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی جا چکی ہے، تاہم چھ سال سے کم عمر بچوں میں اس تعلق کا جائزہ لینے والی یہ پہلی تحقیق ہے۔
اس تحقیق کے دوران دو سے چھ سال عمر کے 168 بچوں کے غذائی ریکارڈ اور موٹاپے، ذیابیطس اور غذائی رویوں سے متعلق آٹھ مختلف کلاک جینز کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں شامل زیک ریباؤ، جو گویلف فیملی ہیلتھ اسٹڈی کے بایوانفارمیٹکس ماہر ہیں، نے کہا کہ ابتدائی عمر میں بچوں کی خوراک اور کھانے پینے کی عادات مستقبل میں مختلف بیماریوں کے خطرات پر اثر ڈال سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ تحقیق صرف ایک مخصوص وقت کے مشاہدے پر مبنی ہے، جبکہ آئندہ مطالعات میں یہ جانچنے کی کوشش کی جائے گی کہ بچوں اور ان کے والدین کی عمر بڑھنے کے ساتھ یہ جینیاتی تعلقات کس حد تک برقرار رہتے ہیں۔
ریباؤ کے مطابق اس شعبے میں تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور مزید مشاہداتی مطالعات کی ضرورت ہے تاکہ سرکیڈین جینز، خوراک اور موٹاپے کے درمیان تعلق کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بچوں میں موٹاپے کی وجوہات صرف جینیات تک محدود نہیں بلکہ خوراک، جسمانی سرگرمی، نیند، خاندانی ماحول اور دیگر عوامل بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم کلاک جینز کو بھی اب ان عوامل میں ایک اہم عنصر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے مستقبل میں ایسی حکمت عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس کے ذریعے بچوں میں موٹاپے اور اس سے جڑی بیماریوں کی روک تھام کے لیے انفرادی غذائی منصوبے اور طرزِ زندگی کی سفارشات مرتب کی جا سکیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

