دنیا

ٹرمپ نے ایران پر نئے حملے مؤخر کر دیے، جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کے خدوخال طے ہونے کا دعویٰ

📷 Trump Delays New Strikes on Iran, Claims Framework for Peace Deal Reached(Instant Image)

ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نئے امریکی فوجی حملوں کو فی الحال روکنے کی ہدایت دیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک ایک ایسے معاہدے کے بنیادی نکات پر متفق ہو گئے ہیں جس کے ذریعے گزشتہ پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف نئے امریکی فوجی حملوں کو فی الحال روکنے کی ہدایت دیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک ایک ایسے معاہدے کے بنیادی نکات پر متفق ہو گئے ہیں جس کے ذریعے گزشتہ پانچ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور غیر مشروط طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس سلسلے میں مثبت پیش رفت کی درخواست موصول ہوئی ہے، جس کے بعد انہوں نے عالمی امن اور ایک مستحکم ایران کے مفاد میں مجوزہ فوجی کارروائی مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ حملے روکنے کا فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ فریقین جلد کسی قابلِ عمل معاہدے تک پہنچ جائیں۔

تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں ایران پر حملوں کے بعد انہوں نے کشیدگی کم کرنے کی بات کی تھی، لیکن بعد میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی تھی۔

دوسری جانب ایران کے وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے ردِعمل میں کہا کہ تہران امریکی بیانات سے نہ تو حیران ہے اور نہ ہی غافل۔ ان کے مطابق ایران ہر ممکن خطرے کے مقابلے کے لیے مکمل طور پر تیار اور چوکس ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے جس مجوزہ معاہدے کا ذکر کیا گیا ہے، اس کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع کیے جائیں گے تاکہ ماضی میں تعطل کا شکار رہنے والے اہم معاملات پر پیش رفت ممکن ہو سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تجویز میں آبنائے ہرمز کی بحالی، خطے میں حملوں کا خاتمہ، عراق اور اردن سمیت خلیجی ممالک میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کی کارروائیاں روکنے جیسے نکات شامل ہیں۔ اس کے بدلے امریکہ ایران پر عائد بحری پابندیوں میں نرمی کرے گا اور اسے تیل برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

اگرچہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا، تاہم ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔

ادھر اسرائیل کی جانب سے ٹرمپ کے اس اعلان پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردِعمل سامنے نہیں آیا، حالانکہ امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل بھی جنگ بندی کے مجوزہ منصوبے کی حمایت کر رہا ہے۔

اس دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے بھی امریکی صدر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

ذرائع کے مطابق سعودی قیادت نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی امریکی کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر کشیدگی مزید بڑھی تو ایران سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ولی عہد نے امریکی صدر سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ واشنگٹن مستقبل میں ایران کے خلاف کس نوعیت کے اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تصدیق کی، تاہم اس کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم تنازعات پر اتفاق رائے قائم ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے، جس کے باعث کسی بھی معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے مزید سفارتی کوششوں کی ضرورت ہوگی۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories