کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا نے رہائشی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں
ریڈ ڈیئر (البرٹا): کینیڈا کی وفاقی حکومت اور صوبہ البرٹا نے رہائشی منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لیے پانی اور سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت البرٹا کی مختلف بلدیاتی حکومتوں کو آئندہ آٹھ برسوں کے دوران 510 ملین کینیڈین ڈالر سے زائد کی وفاقی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس معاہدے کا اعلان وزیراعظم مارک کارنی اور البرٹا کی وزیر اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے ریڈ ڈیئر میں مشترکہ تقریب کے دوران کیا۔
وفاق اور صوبے کی مشترکہ سرمایہ کاری
معاہدے کے مطابق وفاقی حکومت کینیڈین ہاؤسنگ انفراسٹرکچر فنڈ کے ذریعے 510 ملین ڈالر سے زیادہ فراہم کرے گی، جبکہ صوبہ البرٹا بھی منصوبوں کی لاگت میں کم از کم ایک تہائی حصہ ادا کرے گا، جس کے لیے 428 ملین کینیڈین ڈالر تک کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
اس معاہدے کے تحت البرٹا حکومت کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ صوبے کی ضروریات کے مطابق منصوبوں کی نشاندہی اور ترجیح کا تعین کرے، جبکہ وفاقی حکومت مالی تعاون فراہم کرے گی۔
آبادی میں اضافے نے دباؤ بڑھا دیا
البرٹا حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران صوبے کی آبادی میں چھ لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث سستے اور مارکیٹ ریٹ دونوں اقسام کی رہائش گاہوں کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
صوبائی حکومت کے مطابق آبادی میں تیز رفتار اضافے نے صرف رہائش ہی نہیں بلکہ عوامی خدمات اور بنیادی انفراسٹرکچر پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کا مؤقف
وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ نئی رہائشی کالونیوں کی تعمیر اسی وقت ممکن ہے جب ان کے لیے پانی، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولتوں کا مناسب انتظام موجود ہو۔
انہوں نے کہا کہ اگر بنیادی انفراسٹرکچر دستیاب نہ ہو تو رہائشی منصوبوں کی رفتار متاثر ہوتی ہے، اس لیے یہ معاہدہ صوبے میں رہائش کے بحران سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
مارک کارنی: کئی دہائیوں سے گھروں کی کمی کا سامنا ہے
وزیراعظم مارک کارنی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا گزشتہ کئی دہائیوں سے مطلوبہ تعداد میں مکانات تعمیر نہیں کر سکا، جس کے نتیجے میں آج بہت سے خاندان اپنی آمدنی کا نصف سے بھی زیادہ حصہ رہائش پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد مناسب رہائش سے شروع ہوتی ہے، لیکن صرف چار دیواری اور چھت کافی نہیں ہوتی بلکہ ہر گھر کے لیے صاف پانی اور قابل اعتماد سیوریج نظام بھی ناگزیر ہے۔
ایئرڈری میں 45 ہزار نئے گھروں کی راہ ہموار
مارک کارنی نے بتایا کہ کیلگری کے قریب واقع شہر ایئرڈری میں ایک نئی ویسٹ واٹر پائپ لائن کی تعمیر سے تقریباً 45 ہزار نئے گھروں کی تعمیر ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے اس لیے ضروری ہیں کیونکہ کینیڈین شہری مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے، اور رہائشی بحران پر قابو پانے کے لیے بنیادی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
رہائشی بحران پر قابو پانے کی کوشش
وفاقی اور البرٹا حکومتوں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے نہ صرف نئی رہائشی اسکیموں کی راہ ہموار ہوگی بلکہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث پیدا ہونے والے انفراسٹرکچر کے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ حکام کے مطابق پانی اور سیوریج کے منصوبوں میں سرمایہ کاری مستقبل میں ہزاروں نئے گھروں کی تعمیر اور رہائشی قلت کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

