کینیڈا کے صوبہ سسکیچیوان کی حکومت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی بھرتی کے لیے شروع کیا گیا منصوبہ مثبت نتائج دے رہا ہے
ریجائنا: کینیڈا کے صوبہ سسکیچیوان کی حکومت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی بھرتی کے لیے شروع کیا گیا منصوبہ مثبت نتائج دے رہا ہے، تاہم اپوزیشن نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھرتی مہم پر عوام کا پیسہ خرچ ہونے کے باوجود مطلوبہ نتائج سامنے نہیں آئے۔
صوبائی وزیر صحت جیریمی کاکرل نے کہا کہ 2022 میں شروع کیے گئے ہیلتھ ہیومن ریسورسز (HHR) ایکشن پلان کے تحت گزشتہ چار برسوں کے دوران 7 ہزار 500 سے زائد صحت کے شعبے سے وابستہ افراد سسکیچیوان کے طبی نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔ ان میں ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر طبی پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
ان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنا، نئے طبی ماہرین کو صوبے کی جانب راغب کرنا اور موجودہ عملے کو برقرار رکھنا ہے۔
اس منصوبے کے تحت حکومت نے سسکیچیوان ہیلتھ کیئر ریکروٹمنٹ ایجنسی (SHRA) بھی قائم کی، جس کا مقصد بھرتی کے عمل کو آسان اور مؤثر بنانا ہے۔
ایجنسی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر ٹیری اسٹرنک نے بتایا کہ ادارہ صوبے سے باہر اور بیرون ملک طبی ماہرین کو راغب کرنے کے لیے خصوصی تشہیری مہم چلا رہا ہے۔ ان کے مطابق اشتہارات دیکھنے والے ڈاکٹر اور دیگر طبی ماہرین ادارے کی ویب سائٹ پر جا کر اپنا پروفائل بناتے ہیں، جس کے بعد بھرتی ٹیم ان سے رابطہ کرتی ہے اور ملازمت کے عمل کو آگے بڑھاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ہدف بنا کر چلائی گئی مہم کے نتیجے میں بھی کئی ڈاکٹرز نے دلچسپی ظاہر کی ہے اور اس وقت سات ڈاکٹرز کی بھرتی کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق بیرون ملک سے کسی ڈاکٹر کی تقرری میں مختلف قانونی اور انتظامی مراحل کی وجہ سے وقت لگتا ہے۔
دوسری جانب صوبے کی سرکاری اپوزیشن نیو ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) نے حکومت کے دعووں پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔
این ڈی پی کے لیبر امور کے ناقد نیتھنیئل ٹیڈ نے کہا کہ حکومت مسلسل بھرتی مہم پر ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کر رہی ہے، لیکن اس کے باوجود نئے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی تعداد میں نمایاں اضافہ نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہا کہ خاص طور پر گزشتہ سال امریکہ سے ڈاکٹرز کو سسکیچیوان لانے کے لیے شروع کی گئی مہم کے نتائج ابھی تک عوام کے سامنے واضح نہیں ہوئے۔
حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں ایکشن پلان کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 742 ڈاکٹرز بھرتی کیے گئے ہیں، جن میں 369 فیملی فزیشنز اور 373 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز شامل ہیں۔
اسی عرصے میں تقریباً 3 ہزار نرسوں کو بھی صحت کے شعبے میں شامل کیا گیا۔ یہ طبی ماہرین امریکہ، آئرلینڈ، برطانیہ، فلپائن اور دیگر ممالک سے سسکیچیوان آئے ہیں۔
تاہم صحت کے شعبے کے 14 ہزار سے زائد ملازمین کی نمائندگی کرنے والی یونین کے صدر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بیرون ملک سے نئے ملازمین لانے کے ساتھ ساتھ موجودہ طبی عملے کی ضروریات پر بھی توجہ دی جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت موجودہ ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر صحت کارکنوں کو بہتر سہولیات، مناسب تنخواہیں اور بہتر کام کا ماحول فراہم کرے تو نہ صرف تجربہ کار عملہ برقرار رکھا جا سکے گا بلکہ نئے ملازمین کی ضرورت بھی کم ہو جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی کمی دور کرنا اس کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اسی مقصد کے لیے بھرتی مہم، تربیتی پروگراموں اور ملازمین کو برقرار رکھنے کے اقدامات پر مسلسل کام جاری رکھا جائے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

