دنیا

جانسن اینڈ جانسن کا بیبی پاؤڈر سے متعلق کینسر مقدمات نمٹانے کے لیے 5.5 ارب ڈالر کی پیشکش

📷 Johnson & Johnson Offers $5.5 Billion to Settle Baby Powder Cancer Lawsuits(Photo Credit to Social Media)

یاد رہے کہ گزشتہ سال ایک امریکی دیوالیہ پن کی عدالت نے جانسن اینڈ جانسن کی ذیلی کمپنی ریڈ ریور ٹیلک کی جانب سے پیش کیے گئے 9 ارب ڈالر کے تصفیہ منصوبے کو مسترد کر دیا تھا،

نیویارک: امریکی دوا ساز کمپنی جانسن اینڈ جانسن (Johnson & Johnson) نے اپنے ٹیلک (Talc) پر مبنی بیبی پاؤڈر کے خلاف دائر ہزاروں مقدمات کے تصفیے کے لیے 5.5 ارب امریکی ڈالر ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ یہ مقدمات ان الزامات پر مبنی ہیں کہ کمپنی کے ٹیلک مصنوعات کے استعمال سے بعض خواتین میں بیضہ دانی (اووری) کے کینسر کا خطرہ پیدا ہوا، تاہم کمپنی نے ایک بار پھر ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سائنسی بنیادوں سے محروم قرار دیا ہے۔

کمپنی گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے ٹیلک مصنوعات سے متعلق مقدمات کا سامنا کر رہی ہے۔ جانسن اینڈ جانسن کے مطابق یہ مجوزہ تصفیہ اسی صورت میں نافذ ہوگا جب باقی ماندہ تقریباً 76 ہزار دعویداروں میں سے 95 فیصد اس معاہدے پر رضامندی ظاہر کریں گے۔

کمپنی نے پیر کو جاری اپنے بیان میں کہا کہ اب تک اووری کینسر سے متعلق زیادہ تر مقدمات میں عدالتوں نے اس کے حق میں فیصلے دیے ہیں۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ اس کے ٹیلک مصنوعات اور کینسر کے درمیان تعلق کے دعوے قابل اعتماد سائنسی شواہد پر مبنی نہیں بلکہ “غیر معتبر سائنس” پر قائم ہیں۔

دوسری جانب متاثرین کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرموں نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے طویل قانونی تنازع کے بعد ایک مناسب حل قرار دیا ہے۔

متاثرین کے وکیل کرس سیگر، جو تقریباً ڈھائی ہزار دعویداروں کی نمائندگی کر رہے ہیں اور معاہدے کی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے، نے کہا کہ کمپنی کی مجموعی ادائیگی مستقبل میں 7 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت اووری کینسر کے اہل دعویداروں کے لیے مخصوص معاوضے کی رقم مقرر کی گئی ہے، تاہم کمپنی کی مجموعی ادائیگی کی کوئی حتمی حد مقرر نہیں کی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال ایک امریکی دیوالیہ پن کی عدالت نے جانسن اینڈ جانسن کی ذیلی کمپنی ریڈ ریور ٹیلک کی جانب سے پیش کیے گئے 9 ارب ڈالر کے تصفیہ منصوبے کو مسترد کر دیا تھا، جو تاریخ کے بڑے اجتماعی قانونی تصفیوں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ اس فیصلے کے بعد کمپنی نے اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور مقدمات کا سامنا جاری رکھا۔

گزشتہ ہفتے ایک وفاقی جج نے مقدمہ دائر کرنے والے فریقین سے وضاحت طلب کی تھی کہ جب ان کے گواہ ٹیلک مصنوعات اور کینسر کے درمیان واضح تعلق ثابت کرنے کے لیے ٹھوس شواہد پیش نہیں کر سکے تو زیر التوا دعووں کو کیوں نہ خارج کر دیا جائے۔

جانسن اینڈ جانسن کے عالمی نائب صدر برائے قانونی امور ایرک ہاس نے کہا کہ عدالت کے حکم نے مدعیان کو ایسی صورتحال میں ڈال دیا جہاں ان کے پاس اپنے دعووں کے حق میں مخصوص سائنسی شواہد موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق یہ مقدمات غیر معتبر ماہرین کی آراء پر مبنی تھے، جو عدالتی جانچ پر پورا نہیں اتر سکیں۔

نئے معاہدے کے تحت جانسن اینڈ جانسن آئندہ سال 3 ارب امریکی ڈالر ادا کرے گی، جبکہ باقی ادائیگیاں 2028 سے شروع ہوں گی۔

ایرک ہاس نے کہا کہ اگرچہ کمپنی کو یقین ہے کہ مزید قانونی کارروائی کی صورت میں بھی وہ زیادہ تر مقدمات میں کامیاب رہتی، تاہم اس تصفیے سے کمپنی اس طویل تنازع کو ختم کر کے اپنی بنیادی ذمہ داری، یعنی جانیں بچانے والی ادویات اور طبی آلات کی تیاری، پر پوری توجہ مرکوز کر سکے گی۔

کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس سے قبل میسوتھیلیوما (Mesothelioma) سے متعلق تقریباً 95 فیصد مقدمات، ریاستی صارفین کے تحفظ سے متعلق تمام دعووں اور ٹیلک سپلائرز سے متعلق تمام تنازعات پہلے ہی نمٹا چکی ہے۔

جانسن اینڈ جانسن کے مطابق یہ اربوں ڈالر کا معاہدہ گزشتہ پندرہ برس سے جاری اس قانونی تنازع کو اختتام تک پہنچانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا، جبکہ متاثرین کے وکلا کا کہنا ہے کہ اگر دعویداروں کی مطلوبہ تعداد اس معاہدے سے اتفاق کر لیتی ہے تو ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو طویل عدالتی کارروائی سے نجات مل جائے گی۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories