دنیا

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو نشانہ بنایا جا ناافسوسناک ہے

📷 Targeting Maulana Mohammad Ali Jauhar University Is Regrettable.(Photo Credit StudioXNews)

دلت، او بی سی، اقلیتوں اور آدی واسیوں کے اتحاد، تعلیم، ریزرویشن اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد پر زور

تعلیمی اداروں میں صرف کسی ایک مذہب کے نہیں بلکہ پورے ملک کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ڈوما پریسنگھ (دلت، او بی سی، اقلیتوں اور آدی واسی تنظیموں کا پریشد) کے زیرِ اہتمام انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (آئی آئی سی سی )، لودھی روڈ، نئی دہلی میں “دہلی پردیش سمیلن” کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک کے موجودہ سماجی، تعلیمی اور سیاسی حالات پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور دلت، او بی سی، اقلیتوں اور آدی واسی طبقات کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد علی ایڈوکیٹ،قوی جنرل سکریٹری ڈوما نے کہا کہ اتحاد کی طاقت کی بنیاد پر ہی ہندوستان نے انگریزوں سے آزادی حاصل کی تھی، اس لیے آج بھی ملک کو مضبوط بنانے کے لیے تمام محروم طبقات کا متحد ہونا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مولانا محمد علی جوہر نے تحریکِ آزادی میں گراں قدر قربانیاں دیں، آج انہی کے نام سے منسوب مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کی اہمیت ہر مذہب میں مسلمہ ہے، لیکن آج تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں صرف کسی ایک مذہب کے نہیں بلکہ پورے ملک کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی جدوجہد کا ہی نتیجہ ہے کہ دلت طبقہ تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ سکا۔ ان کا الزام تھا کہ موجودہ حکومت تعلیم کے نظام کو کمزور کرنے کی سازش کر رہی ہے، جس کی مثال نیٹ سمیت مختلف امتحانات میں پیپر لیک کے واقعات اور بعض تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مضبوط بنانے کے بجائے کمزور کیا جا رہا ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔

 ڈاکٹر ادت راج، سابق رکن پارلیمنٹ اور قومی صدر ڈوما پریسنگھ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سب سے زیادہ ضرورت تنظیموں کو مضبوط بنانے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دلت، او بی سی اور مسلمان اگر متحد ہو کر اپنے حقوق کی لڑائی نہیں لڑیں گے تو کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ “اکیلے رہنے والے ہمیشہ غیر محفوظ رہتے ہیں، اس لیے تمام محروم طبقات کو متحد ہو کر جدوجہد کرنی ہوگی۔

ڈاکٹر ادت راج نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اروند کیجریوال اور ممتا بنرجی نے نتیش کمار کو انڈیا اتحاد کا کنوینر بننے سے نہ روکا ہوتا تو آج ملک کی سیاسی صورتحال مختلف ہوتی۔

اس موقع پر چندر بھان، حکیم جمال الدین، پرمیندر جی، یوگ راج چند ولیہ، کاشف، ستیش سانسی، سی پی سنگھ، محترمہ ونود رستوگی اور ایڈوکیٹ منیش سانسی نے بھی اپنے خطابات میں ملک کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیم، سماجی انصاف، آئینی حقوق اور قومی یکجہتی کے تحفظ پر زور دیا۔

پروگرام کی نظامت اسلم پرویز خان نے انجام دی، جبکہ مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں، دانشوروں، اساتذہ، طلبہ اور کارکنان کی بڑی تعداد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملک میں سماجی ہم آہنگی، معیاری تعلیم، آئینی حقوق اور ریزرویشن کے تحفظ کے لیے تمام کمزور طبقات کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories