جنتر منتر پر ’چلو پارلیمنٹ‘ مارچ کے دوران ہنگامہ، مظاہرین اور پولیس میں کشیدگی، متعدد افراد زخمی
سی جے پی کے کارکنوں پر لاٹھی چارج کے الزامات، پولیس نے تشدد کی خبروں کی تردید کر دی
نئی دہلی: دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبے کے لیے جاری احتجاج پیر کے روز اس وقت کشیدہ صورت حال اختیار کر گیا جب “چلو پارلیمنٹ” مارچ کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ احتجاجی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے الزام عائد کیا ہے کہ دہلی پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ کئی مظاہرین کے سر پھٹنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب دہلی پولیس نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی قسم کا لاٹھی چارج نہیں کیا گیا اور صورتحال کو مکمل پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا گیا۔
پارلیمنٹ مارچ روکنے کے لیے سخت سکیورٹی انتظامات
پیر کی صبح ہزاروں مظاہرین جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کے لیے جمع ہوئے، تاہم دہلی پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس (RAF) نے مختلف مقامات پر بھاری نفری تعینات کر کے بیریکیڈنگ کر دی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ احتجاجی مارچ کی اجازت نہیں دی گئی تھی، اس لیے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکا گیا۔
احتجاج کے دوران بعض مظاہرین راجیو چوک اور منڈی ہاؤس میٹرو اسٹیشن تک پہنچ گئے جبکہ کچھ افراد بیریکیڈز توڑ کر پارلیمنٹ تھانے کے قریب جا پہنچے، جہاں پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔
سی جے پی کا دعویٰ، پولیس نے طاقت کا استعمال کیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دیپکے نے الزام لگایا کہ پرامن احتجاج کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی، لیکن ان کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی طاقت اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ “چلو پارلیمنٹ” مارچ مکمل طور پر پُرامن تھا اور حکومت کو احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کی آواز سننی چاہیے۔
تنظیم کے ترجمان سوربھ داس نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم ابھی تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
دہلی پولیس کی وضاحت
دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ جنتر منتر پر پولیس تشدد اور لاٹھی چارج کی خبریں بے بنیاد ہیں۔
پولیس کے مطابق کسی بھی مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال نہیں کیا گیا اور قانون و امن کی صورتحال کو مکمل ذمہ داری کے ساتھ سنبھالا گیا۔
پولیس نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور امن و امان برقرار رکھنے میں انتظامیہ کا تعاون کریں۔
سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تین شرائط رکھ دیں
دوسری جانب گزشتہ 23 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے معروف ماہر ماحولیات اور سماجی کارکن سونم وانگچک نے اپنا احتجاج ختم کرنے کے لیے حکومت کے سامنے تین اہم شرائط رکھ دی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت تعلیمی نظام میں ہونے والی بے ضابطگیوں اور نیٹ امتحان میں پیپر لیک کی ذمہ داری قبول کرے، سی جے پی کے نمائندہ وفد کو پارلیمنٹ جانے کی اجازت دی جائے اور ارکان پارلیمنٹ اس مسئلے کو ایوان میں اٹھانے کی یقین دہانی کرائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ان کی صحت کے باعث ایسا ممکن نہ ہو تو ارکان پارلیمنٹ صفدر جنگ اسپتال آ کر یہی یقین دہانی دیں۔
سونم وانگچک کی صحت مستحکم، مگر مسلسل نگرانی جاری
اس وقت سونم وانگچک دہلی کے صفدر جنگ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔
اسپتال کی جانب سے جاری تازہ طبی رپورٹ کے مطابق ان کی مجموعی حالت فی الحال مستحکم ہے اور تمام اہم طبی اشاریے معمول کے مطابق ہیں، تاہم خون سے متعلق بعض ٹیسٹوں کے نتائج پر ڈاکٹروں کی خصوصی نظر ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ممکنہ پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے انہیں مسلسل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے جبکہ ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم ان کے علاج کی نگرانی کر رہی ہے۔
تین طلبہ رہنماؤں کی بھوک ہڑتال ختم
اسی دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) سے وابستہ تین طلبہ رہنماؤں نے اپنی 23 روزہ بھوک ہڑتال ختم کر دی۔
معروف اداکارہ شبانہ اعظمی، راجیہ سبھا رکن منوج جھا اور اداکار پرکاش راج نے انہیں پانی پلا کر ان کا انشن ختم کرایا۔
یہ تینوں طلبہ رہنما گزشتہ 23 دنوں سے سونم وانگچک کے ساتھ احتجاج میں شریک تھے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی حمایت
احتجاج کے دوران متعدد اپوزیشن رہنما بھی جنتر منتر پہنچے۔
عام آدمی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا، سنجے سنگھ اور آتشی نے مظاہرین سے اظہار یکجہتی کیا، جبکہ سماج وادی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ڈمپل یادو بھی اپنی جماعت کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ احتجاجی مقام کی جانب مارچ کرتی نظر آئیں۔
آزاد سماج پارٹی (کانشی رام) کے سربراہ چندر شیکھر آزاد بھی “چلو پارلیمنٹ” مارچ سے قبل جنتر منتر پہنچے اور احتجاجی طلبہ سے ملاقات کی۔
نیٹ پیپر لیک کے خلاف تحریک جاری
واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی گزشتہ 20 جون سے جنتر منتر پر نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔
تنظیم کا مطالبہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں اور امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔
سونم وانگچک 28 جون سے اس تحریک میں شامل ہوئے تھے اور تب سے مسلسل بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت طلبہ کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کرتی، ان کی جمہوری اور آئینی جدوجہد جاری رہے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

